سی بی آئی کی کاروائی، انٹرپول ریڈ نوٹس کے بعد مفرور ملزمہ کو پونے پولیس کے حوالے کر دیا گیا-88 کروڑ روپے کے مبینہ مالیاتی فراڈ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی نے وزارت خارجہ "MEA" اور وزارت داخلہ "MHA" کے تعاون سے متحدہ عرب امارات سے مطلوب وشاکھا راٹھوڈ کو بھارت واپس لایا ہے۔ حکام کے مطابق وشاکھا راٹھوڈ کو 3 اگست 2026 کو بھارت لایا گیا، جہاں وہ پونے پہنچی۔ اس کے بعد مہاراشٹرا پولیس کی ایک ٹیم نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔
وشاکھا راٹھوڈ پر کیا الزامات ہیں؟
وشاکھا راٹھوڈ، 88 کروڑ روپے کے فراڈ کیس کے مرکزی ملزم اویناش راٹھوڈ کی اہلیہ ہے۔ تفتیشی اداروں کا الزام ہے کہ اویناش راٹھوڈ اور اس کے ساتھیوں نے کئی افراد کو مختلف سرمایہ کاری اسکیموں میں رقم لگانے کے لیے آمادہ کیا۔ ان اسکیموں میں سرمایہ کاروں کو ہر ماہ مقررہ منافع دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن الزام ہے کہ جمع کی گئی رقم کا غلط استعمال کیا گیا اور اسے مختلف بینک اور ڈیمیٹ اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
سی بی آئی نے کیسے کاروائی کی؟
تفتیش کے دوران سی بی آئی نے وشاکھا راٹھوڈ کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس حاصل کیا۔ اس کے بعد بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطہ کیا گیا تاکہ اسے تلاش کر کے بھارت واپس لایا جا سکے۔ سی بی آئی نے، جو بھارت میں انٹرپول سے متعلق معاملات کی نوڈل ایجنسی ہے، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر متحدہ عرب امارات کے حکام سے رابطہ کیا اور حوالگی کا عمل مکمل کیا۔ ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد پونے پولیس نے اسے گرفتار کیا اور پونے لے جایا گیا، جہاں عدالت نے اسے 10 دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔
اب وشاکھا راٹھوڈ کے ساتھ کیا ہوگا؟
وشاکھا راٹھوڈ اس وقت مہاراشٹرا پولیس کی تحویل میں ہے۔ اس سے مزید تفتیش کی جائے گی اور قانونی کاروائی آگے بڑھائی جائے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک فرار ہونے والے ملزمان کے خلاف کاروائی جاری رہے گی اور انہیں قانونی اور سفارتی طریقوں سے بھارت واپس لانے کی کوشش کی جائے گی۔
بھارت نے کتنے مفرور مجرم واپس لائے؟
مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 2019 سے جولائی 2026 تک بھارت نے 36 ممالک سے 274 مفرور مجرموں کو کامیابی سے واپس لایا ہے۔سی بی آئی، جو بھارت میں انٹرپول کے معاملات دیکھتی ہے، بھرت پَول پلیٹ فارم اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مطلوب افراد کو تلاش کرنے اور واپس لانے میں مدد کرتی ہے۔