بہار کے ارریہ ضلع کے فاربس گنج میں جمعرات کو ایک معمولی تنازعہ نے خوفناک شکل اختیار کر لی، جس سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ سبھاش چوک کے قریب مارکیٹنگ یارڈ کے پاس ایک بحث کی وجہ سے ستو بیچنے والے نے ایک پک اپ ڈرائیور کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد غصے میں بھری بھیڑ نے ملزم کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ اس طرح محض چند منٹوں میں ایک ہی جگہ پر دو موتیں ہو گئیں، جس نے پورے علاقے میں ہڑکامپ مچا دیا۔
مزاق سے شروع ہونے والا تنازعہ قتل میں تبدیل ہو گیا
معلومات کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ جوگبنی کے امونا کا رہنے والا 42 سالہ پک اپ ڈرائیور علی حسین نے مارکیٹنگ یارڈ کے پاس 30 سالہ ستو بیچنے والے روی چوہان سے کسی بات پر مذاق کیا تھا۔ یہ بات چیت جلد ہی ایک تیز بحث میں تبدیل ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے گالی گلوچ تک پہنچ گئی۔ غصے میں آ کر روی چوہان نے اچانک ایک تیز دھار والا چاقو نکالا اور علی حسین پر حملہ کر دیا۔ حملہ اتنا وحشیانہ تھا کہ روی نے علی حسین کا سر اس کے جسم سے مکمل طور پر الگ کر دیا۔ خون سے لتھڑا ہوا سر اور دھڑ کافی دیر تک سڑک پر پڑے رہے۔
ہجوم کا غصہ پھوٹا، پولیس کی آنکھوں کے سامنے لنچنگ
اس جرم کے بعد علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔ ملزم روی چوہان بھاگ کر قریب ہی ایک گھر میں چھپ گیا۔ تاہم، ہزاروں کی تعداد میں موجود غصے میں بھری بھیڑ نے اسے ڈھونڈ نکالا۔ بھیڑ نے اسے گھسیٹ کر باہر نکال لیا۔ پھر اسے سڑک پر پٹک دیا اور لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں، لاتوں اور مکوں سے اس وقت تک بے رحمی سے پیٹا جب تک کہ اس نے دم توڑ نہ دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس بھی موقع پر پہنچی اور تفتیش شروع کر دی۔
شہر پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا
ایک ہی جگہ پر دو افراد کی ہلاکت کے بعد فاربس گنج شہر میں ہر طرف گہرا تناؤ پھیل گیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف مقامی لوگوں نے بڑے پیمانے پر آگ زنی اور توڑ پھوڑ کی۔ ارریہ کے ایس پی جیتندر کمار بھاری پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے اور صورتحال کو کنٹرول میں کیا۔ فی الحال پورے مارکیٹنگ یارڈ اور سبھاش چوک علاقے کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے دونوں لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔
تفتیش میں مصروف پولیس
دہرے قتل کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ایس پی نے بتایا کہ کیس درج کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے اور معاملے کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آخر تنازعہ کس وجہ سے ہوا تھا۔ سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔