آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی کابینہ کے اُس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے ’’جن گن من‘‘ کے مساوی درجہ دیتے ہوئے اس کے تمام چھ بند لازمی قرار دینے اور سرکاری و تعلیمی اداروں کی تقریبات میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو ضروری بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
فیصلے کو واپس لینے کا کیا گیا مطالبہ
بورڈ نے اس فیصلے کو دستورِ ہند کی بنیادی روح، مذہبی آزادی، سیکولر اقدار اور کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کابینہ کا اقدام غیردستوری اورغیرجمہوری
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی کابینہ کا یہ اقدام غیر دستوری، غیر جمہوری اور مذہبی تنوع کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کر سکتی۔
وندے ماترم کے بند مسلم عقیدہ کے خلاف
انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کے متعدد بندوں میں دْرگا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی مدح سرائی موجود ہے، جو مسلمانوں کے عقیدۂ توحید سے براہِ راست متصادم ہے۔ اسلام صرف ایک اللہ کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے اور کسی بھی قسم کے شرک کو قبول نہیں کرتا۔
پہلے دو بند ہی قومی گیت پر کئے گئے تھے تسلیم
ڈاکٹر الیاس نے یاد دلایا کہ 1937 میں رابندرناتھ ٹیگور کے مشورے کے بعد کانگریس نے طے کیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو بند ہی پڑھے جائیں، کیونکہ بعد کے بند مذہبی نوعیت رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر 1950 میں کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی نے بھی صرف پہلے دو بندوں کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تمام چھ بند لازمی قرار دینا تاریخی اتفاقِ رائے سے انحراف اور ایک اشتعال انگیز قدم ہے، جو قومی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
مذہبی معاملات کا سیاسی مقاصد کےلئے استعمال نہیں ہونا چاہئے
بورڈ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ملک کی وحدت اور سالمیت جبر یا مذہبی بالادستی سے نہیں بلکہ آئین، باہمی احترام اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے۔ حکومت کو مذہبی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
فیصلہ واپس نہ لینے پر عدالت سے رجوع ہونے کا اعلان
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو بورڈ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگا۔