راجستھان کے اجمیر میں پولیس اہلکار کے ذریعے مسلمان لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق نہاتے وقت باتھ روم سے اسے خاتون پولیس اہلکار نے زبردستی باہر نکالا اور دیگر پولیس جوانوں نے اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ سلام ٹی وی کے مطابق یہ تمام واقعات اس وقت پیش آئے جب 3 اپریل کو دوپہر اچانک 9 پولیس اہلکار انکوائری کے نام پر اجمیر کے دہلی گیٹ علاقے میں رہنے والے محمد دین کے مکان میں زبردستی داخل ہو گئے۔
متاثرہ فضا انصاری نے بتایا کہ 3 اپریل کو 9 پولیس والے ان کے گھر میں کسی کیس کی تفتیش کے سلسلے میں آئے تھے، جس سے ان کا یا ان کی فیملی کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ پوچھ گچھ کے نام پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور فیملی ممبران سے مارپیٹ بھی کی گئی، جس میں فضا انصاری کی والدہ فیروزہ انصاری کی کمر میں چوٹ لگ گئی۔ فضانے بتایا کہ درگاہ تھانہ، دہلی گیٹ چوکی اور جے پور پولیس سمیت 9 پولیس اہلکار اس میں شامل تھے۔ زبردستی گھر میں گھس کر مارپیٹ اور بدسلوکی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ضلعی پولیس کیپٹن کو 4 اپریل کو شکایت دی گئی اور مجرم پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن 13 دن گزر جانے کے باوجود پولیس کی طرف سے کوئی ٹھوس کاروائی نہیں کی گئی۔
دو بھائیوں سمیت بھابی کو بھی حراست میں لیا :
سلام ٹی وی کے مطابق مجرم پولیس اہلکاروں کے خلاف اب نیشنل ہیومن رائٹس کونسل-مائنارٹی سیل نے بھی مجرم پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے میں نیشنل ہیومن رائٹس مائنارٹی سیل کی قومی صدر ثنا خان نے بتایا کہ پولیس اہلکار کسی دوسرے شخص کی تلاش میں آئے اور بے گناہ فضا انصاری کے گھر میں بغیر نوٹس کے گھس گئے تھے، جہاں انہوں نے فیملی کی عورتوں سے دھکا مکّی، مارپیٹ اور بدسلوکی کی اور فضاکے دو بھائیوں سمیت اس کی بھابی کو بغیر کسی جرم کے حراست میں لے لیا۔
قابل ذکر ہے کہ جے پور پولیس کسی عاشق جوڑے کی تلاش میں اجمیر آئی تھی۔ پولیس کو شک تھا کہ محمد دین کے مکان میں یہ جوڑا ٹھہرا ہوا ہے۔ اسی کے تحت محمد دین کے بیٹے محسن اور عمران سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ فضا انصاری کے مطابق اس کیس میں ان کی فیملی کو کوئی معلومات نہیں ہے، جبکہ پولیس انہیں پریشان کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایس پی اجمیر سے لے کر اب آئی جی اجمیر رینج سے بھی اس معاملے میں درست تفتیش کر کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔