ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ کونسل کے سیکرٹریٹ نے تصدیق کی ہے کہ علی لاریجانی اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سیکورٹی آفیسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروپ کے ساتھ مارے گئے۔ ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے بھی بسیج کمانڈر جنرل غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ دونوں افراد داخلی سلامتی کے تحفظ اور مظاہروں کو دبانے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
چہارشنبہ کو ایران نے اسرائیل اور کئی خلیجی عرب ممالک پر میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ تل ابیب سمیت وسطی اسرائیل میں کئی شہروں میں میزائل سائرن بجے، جبکہ قریبی رامات گان میں دھماکوں کی اطلاع ملی، جس میں ہنگامی خدمات کے مطابق کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی حکام نے بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ ایران کی قیادت کو کمزور کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ حملوں کا مقصد ایران کی حکومت اور قیادت کو دبانا تھا، جبکہ وزیر دفاع بینی گینٹز نے تہران میں بسیج فورس کی تنصیبات پر متعدد کارروائیوں کی تصدیق کی۔
ایران نے اس کے جواب میں نہ صرف اسرائیل بلکہ سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب بھی میزائل اور ڈرون داغے۔ اس کارروائی نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ تازہ کشیدگی خطے میں دیرپا امن کے لیے خطرہ ہے اور اس سے عالمی توانائی مارکیٹ اور تجارتی راستوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے فوری مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں فریقین سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ یہ واقعہ خطے میں طاقت کے توازن اور ایران-اسرائیل تعلقات کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کی عالمی سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے۔