Saturday, March 28, 2026 | 08 شوال 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ایران جنگ کے درمیان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی کم کی

ایران جنگ کے درمیان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی کم کی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 27, 2026 IST

ایران جنگ کے درمیان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی کم کی
ایران جنگ کے تناؤ کے درمیان آج مرکز کی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر لگنے والے ایکسائز ٹیکس میں بڑی کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے دونوں ایندھن پر 10-10روپے فی لیٹر کی کمی کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی کم ہو کر 3 روپے فی لیٹر رہ گئی ہے، جبکہ ڈیزل پر یہ مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سے عام لوگوں کو مہنگائی سے کچھ راحت مل سکتی ہے۔
 
عالمی تناؤ اور تیل کی سپلائی پر اثر:
  
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تناؤ شدید ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز  پر رکاوٹ کی وجہ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے دنیا میں توانائی کا بحران گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ راستہ دنیا کو روزانہ تقریباً 20 سے 25 ملین بیرل تیل کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ہندوستان نے بھی تاریخی طور پر اپنی تیل کی کل درآمدات کا تقریباً 12 سے 15 فیصد اسی راستے سے حاصل کیا ہے۔
 
کمپنیوں کو راحت، مارکیٹ پر اثر:
  
اس کٹوتی سے تیل کمپنیوں پر لاگت کا دباؤ کم ہونے کی امید ہے۔ اس سے خام تیل کی بلند قیمتوں کا اثر بھی کچھ کم ہو سکتا ہے، جو ان دنوں عالمی تناؤ کی وجہ سے مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں۔ حکومت کا یہ اقدام گھریلو مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور عام صارفین کو راحت دینے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، جس سے آنے والے وقت میں قیمتوں پر کنٹرول برقرار رکھنا آسان ہو سکتا ہے۔
 
ایوی ایشن فیول مہنگا، برآمد کے قواعد سخت 
 
جبکہ پٹرول اور ڈیزل پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے، حکومت نے ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر 50 روپے فی لیٹر اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی ہے، جس کی مؤثر شرح تقریباً 29.5 روپے فی لیٹر بتائی جاتی ہے۔مزید برآں، پیٹرول، ڈیزل اور اے ٹی ایف کی برآمد پر لاگو چھوٹ کو کم کر دیا گیا ہے۔تاہم، پڑوسی ممالک کو سپلائی اور پہلے سے منظور شدہ کنسائنمنٹس کو اس تبدیلی سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
 
یہ اقدام مغربی ایشیا میں جاری بحران کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ بھارتی شہریوں کو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بچایا جا سکے۔ ریٹیل قیمتوں پر فوری اثر کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں موجودہ حالات میں لاگت جذب کر رہی ہیں۔