وائی ایس آرسی پی لیڈر اورآندھراپردیش کے سابق ڈپٹی سی ایم امجد باشا نے چندرا بابو پر مسلمانوں سے منافقانہ محبت جتانے کا الزام لگایا۔ انھوں نے جگن موہن ریڈی کی ستائش کی کہ جگن حکومت میں مسلمانوں کی ترقی کیلئے روپیہ خرچ کئے گئے۔ وائی ایس آر سی پی دور حکومت دور میں اقلیتوں کی بہبود کے لیے 24,304 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ جگن نے اماموں کو 10,000 اور روپے۔ موذنین کو 5000روپے اعزازیہ دینے کا وعدہ کیا۔ اور اقتدار ملتے ہی اس وعدے کو پورا کیا گیا۔
مسلمانوں سےکئےگئے وعدے پورا کرنےکی مانگ
انہوں نے سوال کیا کہ چندرا بابو جنہوں نے 50 سال سے زیادہ عمر کے مسلمانوں کو پنشن دینے کا وعدہ کیا تھا وہ کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ انہوں نے عیدگاہوں اور قبرستانوں کے لیے زمین دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن کیوں نہیں دیا۔
وقف اراضی پر نارا لوکیش کی نظر
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر نارا لوکیش کی نظر چیناکانی میں 71 ایکڑ وقف اراضی پر تھی اور انہوں نے صنعتوں کے نام پر ان زمینوں پر قبضہ کرنے کو گرین سگنل دیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب دارالحکومت میں ہزاروں ایکڑ زمینیں ہیں تو صرف وقف زمینیں ہی کیوں؟ انہوں نے کہا کہ 1870 لوگوں میں سے جو کہ حج پر گئے تھے، چندرابابو نے صرف 72 لوگوں کو مالی امداد فراہم کی تھی۔
مسلمانوں کے تئیں دوہرا موقف اختیار کرنے کا الزام
انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2005 جو لوگ اس سال جا رہے ہیں انہیں ایک ایک لاکھ روپے دیے جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وجئے واڑہ میں حج ہاؤس کی تعمیر ابھی تک کاغذات تک ہی محدود ہے۔ انہوں نے چندرا بابو پر مسلمانوں کے تئیں دوہرا موقف اپنانے پر تنقید کی۔