اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے قومی گیت 'وندے ماترم' کو قومی ترانے 'جن گن من' کے برابر قانونی حیثیت دینے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ 'وندے ماترم' کو قومی ترانے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ یہ ملک کوئی دیوی نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی مخصوص دیوی یا دیوتا کے نام پر چلتا ہے.انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مذہب اور ریاست دو الگ چیزیں ہیں اور انہیں ایک ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اوویسی نے کہا کہ 'وندے ماترم' بنیادی طور پر ایک دیوی کی تعریف و ستائش ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اسے قومی ترانے کے برابر درجہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ قومی ترانہ 'جن گن من' پورے بھارت اور اس کے عوام کی ترجمانی کرتا ہے، جبکہ یہ کسی مخصوص مذہب یا عقیدے کی تائید نہیں کرتا۔
مصنف اور تاریخی پس منظر پر سوالات:
اسد الدین اوویسی نے 'وندے ماترم' کے مصنف(بنکم چندر چٹرجی) کے حوالے سے سخت موقف اپنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ:مذکورہ نغمے کے مصنف برطانوی راج کے ہمدرد تھے۔وہ مسلمانوں کے تئیں نفرت انگیز جذبات رکھتے تھے۔
نیتا جی سبھاش چندر بوس، مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور ربیندر ناتھ ٹیگور جیسے عظیم رہنماؤں نے بھی ماضی میں 'وندے ماترم' کے کئی پہلوؤں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
آئین ہند کا حوالہ:
دستورِ ہند کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہمارے آئین کی تمہید (Preamble) کا آغاز "ہم، بھارت کے لوگ" سے ہوتا ہے، نہ کہ بھارت ماں سے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آئین کا آرٹیکل 1 واضح کرتا ہے کہ "انڈیا، یعنی بھارت، ریاستوں کا ایک وفاق ہوگا۔
اوویسی نے مزید کہا کہ دستور ساز اسمبلی میں بحث کے دوران کچھ ارکان نے یہ تجویز دی تھی کہ تمہید کا آغاز کسی "دیوی" یا "خدا" کے نام سے کیا جائے، لیکن ان تمام ترامیم کو مسترد کر دیا گیا تھا تاکہ ملک کی سیکولر شناخت برقرار رہے۔
ملک کسی دیوی یا دیوتا کی ملکیت نہیں:
اپنے بیان کے آخر میں اویسی نے دوٹوک انداز میں کہا:انڈیا یعنی بھارت اپنے عوام سے بنتا ہے۔ ملک کوئی دیوی نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی مخصوص دیوی یا دیوتا کے نام پر چلتا ہے۔ یہ ملک کسی ایک ہستی کی جاگیر نہیں بلکہ اپنے تمام شہریوں کا برابر کا گھر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین ہر شہری کو اپنی مرضی کے مطابق عقیدے اور عبادت کی آزادی دیتا ہے، اور کسی خاص مذہبی نغمے کو زبردستی مسلط کرنا اس روح کے خلاف ہے۔