• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • بنگلورو: نیٹ احتجاج کے دوران متنازع پوسٹروں پر ایف آئی آر درج

بنگلورو: نیٹ احتجاج کے دوران متنازع پوسٹروں پر ایف آئی آر درج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 28, 2026 IST

بنگلورو: نیٹ احتجاج کے دوران متنازع پوسٹروں پر ایف آئی آر درج
کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران جیل میں بند عمر خالد اور شرجیل امام کی حمایت میں پوسٹر لہرانے کے معاملے میں پولیس نے ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ بنگلورو پولیس نے اس واقعے کا از خود (سوموٹو) نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کی۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی احتجاج کے دوران سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر کی گئی۔
 
یہ واقعہ 24 جولائی کو پیش آیا، جب طلباء، سماجی کارکنان اور مختلف تنظیموں کے افراد بنگلورو کے فریڈم پارک میں نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق، احتجاج کے دوران ایک خاتون مظاہرین نے "عمر خالد زندہ باد" اور "شرجیل امام زندہ باد" تحریر والے پوسٹرز لہرائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس عمل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
 
پولیس کا مؤقف ہے کہ ایسے نعروں اور پوسٹروں کی نمائش عوام کو اشتعال دلانے کا سبب بن سکتی ہے اور اس سے امن و امان، عوامی نظم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
 
دوسری جانب، احتجاج میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد نیٹ پیپر لیک اور امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ تاہم، اس واقعے کے بعد احتجاج کا رخ ایک نئے قانونی تنازع کی طرف مڑ گیا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور دستیاب شواہد، ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر مواد کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔