Wednesday, July 15, 2026 | 28 محرم 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • بھوج شالہ تنازعہ: سپریم کورٹ کا عبوری حکم، ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک سے انکار، جمعہ کی نماز کی اجازت

بھوج شالہ تنازعہ: سپریم کورٹ کا عبوری حکم، ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک سے انکار، جمعہ کی نماز کی اجازت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 14, 2026 IST

بھوج شالہ تنازعہ: سپریم کورٹ کا عبوری حکم، ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک سے انکار، جمعہ کی نماز کی اجازت
بھوج شالہ۔کمال مولا مسجد تنازعہ میں سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایک اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر فی الحال روک لگانے سے انکار کر دیا، تاہم مسلم فریق کو جزوی راحت دیتے ہوئے ہدایت دی کہ کمپلیکس کے قریب ایک مناسب کھلی جگہ ہر جمعہ کو دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز کی ادائیگی کے لیے فراہم کی جائے۔ عدالت نے ساتھ ہی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کو واضح ہدایت دی کہ وہ عمارت کی موجودہ حالت میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرے۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت تین ہفتے بعد ہوگی۔
 
چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے مسلم فریق کی درخواستوں پر تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی تفصیلی سماعت جلد کی جائے گی تاکہ تنازعہ کے قانونی نکات پر جامع غور کیا جا سکے۔ عدالت نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس حساس معاملے کو جلد حل کیا جائے گا۔
 
سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے اپنی دلیل میں کہا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد برسوں سے جاری انتظامات کو یکطرفہ طور پر تبدیل کر دیا گیا اور درخواست گزاروں کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے مناسب مہلت بھی نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں مسلم برادری کو اپنی مذہبی سرگرمیوں سے عملاً محروم کر دیا گیا، اس لیے سابقہ انتظامات کو عارضی طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔
 
سنگھوی نے کہا- ہم آہنگی کا پرانا نظام برقرار رہنا چاہیے
 
سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ برسوں سے چلے آ رہے نظام کو اچانک بدلنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں کے زمانے کی دستاویزات بھی بتاتی ہیں کہ بھوج شالا کمپلیکس میں طویل عرصے تک نماز ادا کی جاتی رہی۔ ان کے مطابق بسنت پنچمی پر پوجا اور جمعہ کو نماز کا انتظام مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال تھا، جسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ سنگھوی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے آخری فیصلے تک پرانی صورتحال بحال کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ ابھی کمپلیکس میں کوئی مستقل مورتی نصب نہیں ہے اور روزانہ کارڈ بورڈ (گتے) پر بنی تصویر لا کر پوجا کی جاتی ہے۔
 
مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر دو ماہ سے عمل ہو رہا ہے اور اس دوران علاقے میں امن و امان برقرار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر انتظامات میں تبدیلی مناسب نہیں ہوگی کیونکہ اس سے غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
 
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں دیے جانے والے بیانات کی عدالت سے باہر غلط تشریح کی جا سکتی ہے، اس لیے تمام وکلاء کو اپنے دلائل انتہائی احتیاط کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں۔ عدالت نے ماضی میں اس مقدمے کے دوران سینئر وکیل سلمان خورشید کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا بھی حوالہ دیا۔
 
مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل میناکشی اروڑا نے 1995 کے ایک معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں برادریوں کے درمیان مذہبی سرگرمیوں کو ہم آہنگی کے ساتھ جاری رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔ ان کے مطابق آٹھ سو سال پرانی مسجد میں نماز کی ادائیگی روکنا ایک انتہائی سخت قدم ہے۔ حذیفہ احمدی نے بھی 1935 اور 1951 کے سرکاری احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سابقہ انتظامات کو دوبارہ نافذ کیا جا سکتا ہے۔
 
سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد اب اس حساس مذہبی و قانونی تنازعے پر نظریں آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں عدالت تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید فیصلہ کرے گی۔