Sunday, August 30, 2026 | 15 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • سی آئی اے چیف کا خفیہ روسی دورہ، امریکی حکام بھی لاعلم؟

سی آئی اے چیف کا خفیہ روسی دورہ، امریکی حکام بھی لاعلم؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 29, 2026 IST

سی آئی اے چیف کا خفیہ روسی دورہ، امریکی حکام بھی لاعلم؟
امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے رواں ہفتے روس کا اچانک اور انتہائی خفیہ دورہ کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور روس کے نیٹو ممالک کے خلاف ممکنہ کاروائی کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ریٹکلف کا یہ دورہ اتنا خفیہ رکھا گیا کہ امریکی حکومت کے کئی اعلیٰ حکام اور فوجی افسران کو بھی اس بارے میں پہلے سے معلومات نہیں تھیں۔ ریٹکلف ماسکو جانے کے لیے امریکی فوج کے سی-17 کارگو طیارے میں سوار ہوئے۔ یہ طیارہ پہلے لٹویا کے دارالحکومت ریگا گیا اور وہاں سے ماسکو پہنچا۔
 

روس میں ریٹکلف نے کس سے ملاقات کی؟

کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ جان ریٹکلف نے ماسکو میں روسی انٹیلیجنس حکام سے بات چیت کی۔ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات نہیں ہوئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ریٹکلف کا دورہ روس کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے اور اہم سکیورٹی معاملات پر بات چیت کے لیے تھا۔ امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات بھی اس وقت تعطل کا شکار ہیں۔
 

نیٹو ممالک کے حوالے سے اہم پیغام

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ریٹکلف نے روسی حکام کو واضح کیا کہ امریکہ نیٹو کے ساتھ اپنے وعدوں پر قائم ہے اور کسی بھی نیٹو رکن ملک کے خلاف کاروائی کو سنجیدگی سے لے گا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس جائزوں میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ روس مستقبل میں نیٹو کے کسی رکن ملک کی طاقت اور اتحاد کے ردعمل کو جانچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہ کاروائی روایتی جنگ کے بجائے سائبر حملوں، خفیہ کاروائیوں یا محدود فوجی اقدامات کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے۔  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ریٹکلف روسی حکام سے وقتاً فوقتاً رابطے میں رہتے ہیں اور اس ملاقات میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ کریملن نے بھی نیٹو پر روسی حملے کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے ایسی خبروں کو ’ڈراؤنی کہانیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
 

ریٹکلف کے دورے نے یورپی ممالک کو بھی حیران کر دیا

ریٹکلف کے خفیہ دورے کے بارے میں صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ یورپ میں بھی حیرت کا اظہار کیا گیا۔ امریکی فوجی طیارے کی ماسکو آمد کے بعد اس دورے کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد یورپی حکام نے بھی واشنگٹن سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لٹویا اور دیگر بالٹک ممالک نے بعد میں واضح کیا کہ اس دورے کے باوجود انہیں روس کی جانب سے فوری طور پر کسی نئے حملے کا خطرہ محسوس نہیں ہو رہا۔
 

روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

روس اور نیٹو کے درمیان پہلے ہی کشیدگی برقرار ہے۔ یوکرین جنگ کے دوران روسی ڈرونز اور دیگر فوجی سرگرمیوں کے باعث کئی مرتبہ نیٹو کے رکن ممالک کی فضائی حدود کے قریب یا اندر صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ رپورٹس میں رومانیہ اور پولینڈ جیسے نیٹو رکن ممالک کی جانب سے بھی روسی ڈرونز سے متعلق واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایسے واقعات نے یورپی ممالک میں تشویش بڑھائی ہے کہ روس اور نیٹو کے درمیان براہ راست کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
 

یوکرین جنگ بھی ریٹکلف کے دورے کا اہم پس منظر ہے

جان ریٹکلف کا ماسکو دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات میں زیادہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔ امریکی حکام روس کے ساتھ براہ راست رابطے برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بدستور جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بنیادی معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔ مجموعی طور پر جان ریٹکلف کا اچانک ماسکو دورہ امریکہ اور روس کے درمیان جاری خفیہ سفارتی رابطوں کی اہم مثال سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اسے معمول کی نوعیت کا دورہ قرار دیا ہے، لیکن دورے کی غیر معمولی رازداری، امریکی فوجی طیارے کا استعمال اور روسی انٹیلیجنس حکام سے ملاقات نے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔