آن لائن تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے حکومت کو ان کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے تنظیم کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر توجہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے حکومت سے امتحانات اورداخلہ امتحانوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بھی مطالبہ کیا ہے۔
ابھیجیت ڈپکے نے ہفتہ کو دہلی کے جنتر منتر پر ایک منصوبہ بند مظاہرے میں حصہ لیا، جو کہ سخت حفاظتی انتظامات میں منعقد ہوا ،اور اس میں کئی نوجوانوں نے شرکت کی۔ انھوں نے اعلان کیا کہ سونم وانکچو اس احتجاج میں شرکت کر یں گے۔"میرے دوستو، یہ ایک طویل جدوجہد ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ شروع ہوئے ایک مہینہ ہو گیا ہے، لیکن یہ لوگ اتنے بے شرم ہیں کہ کاروائی کرنے کے بجائے، ہمارے اکاؤنٹس کو ہیک کرنے اور ہماری پوسٹس کو حذف کرنے جیسے دیگر خلفشار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ آپ ہماری پوسٹس کو حذف کر سکتے ہیں، لیکن آپ ہمیں اس جگہ سے نہیں مٹا سکتے۔"
اس صبح اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اپنی آمد کو یاد کرتے ہوئے، ڈپکے نے کہا کہ ان کی پرواز کے اترنے سے عین قبل، انہیں ایسا لگا جیسے وہ آزادی کے آخری لمحات گزار رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس مقصد کے لیے اپنی آزادی قربان کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ سی جےپی کے بانی نے دعویٰ کیا کہ قید کے خوف سے بہت سے لوگوں نے خود سے سمجھوتہ کیا اور 'بک گئے'۔ "لیکن ہے دیش کا چھتر، یووا نہیں بکا ہے (اس ملک کے نوجوانوں اور طالب علموں نے خود کو نہیں بیچا ہے)،" انہوں نے ہجوم کی طرف سے زوردار نعروں کے درمیان کہا۔
سینکڑوں لوگ، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے، مظاہرے کے لیے نکلے، جن میں سے اکثر نے کاکروچ کے ماسک پہنے ہوئے تھے اور پھول اٹھا رکھے تھے۔ا سکول کے طلباء بھی اپنے والدین کے ساتھ احتجاج میں شریک نظر آئے۔شرکاء کی اکثریت نوجوان پیشہ ور افراد کے ساتھ ساتھ اسکول اور کالج کے طلباء کی آمیزش تھی۔
سینکڑوں طلباء پنڈال پر جمع ہوئے، نعرے لگا رہے تھے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ڈپکے، جو دن کے اوائل میں دہلی پہنچے تھے، نے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ احتجاج پرامن رہے۔ کارکن سونم وانگچک، جنہوں نے احتجاج کی حمایت کا اظہار بھی کیا ہے، کہا کہ اگر ڈپکے کو گرفتار کیا گیا تو وہ چھ ہفتے کا روزہ رکھیں گے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں، ڈپکے نے جنتر منتر پر حامیوں سے ملنے پر جوش کا اظہار کیا اور انہیں کتاب اور قومی پرچم لانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ پولیس اہلکاروں کو "ہمدردی اور شکرگزاری کے اشارے" کے طور پر پھول پیش کریں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تحریک کی قیادت "محبت اور امن" کے ساتھ کی جانی چاہیے۔
یہ احتجاج سی جے پی کی طرف سے منظم کیا گیا ہے، جو نوجوانوں کی زیر قیادت ایک آن لائن تحریک ہے جس میں نیٹ ، سی بی ایس سی ، سی یو ای ٹی، اور ایس ایس سی امتحانات سمیت امتحانات اور بھرتی ٹیسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔احتجاج کے پیش نظر قومی دارالحکومت میں سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے، سرحدی داخلی مقامات اور دیگر حساس مقامات پر اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔