منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' میں آج Asthma اور نیند کی خرابیوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر معروف معالج Dr. MD. Abdullah Saleem نے بتایا کہ دمہ اور نیند کے مسائل ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
ڈاکٹر عبداللہ سلیم کے مطابق دمہ ایک دائمی بیماری ہے جس میں سانس کی نالیاں سوجن کا شکار ہو جاتی ہیں، جس کے باعث سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن، کھانسی اور سیٹی جیسی آواز پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری بچوں اور بڑوں دونوں میں پائی جاتی ہے۔ دھول، دھواں، آلودگی، سگریٹ نوشی، ٹھنڈی ہوا، الرجی اور بعض اوقات ذہنی دباؤ بھی دمہ کو بڑھا سکتے ہیں۔
پروگرام میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ دمہ کے مریض اکثر رات کے وقت سانس لینے میں زیادہ دشواری محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ کئی افراد Sleep Disorder یا Sleep Apnea کا شکار ہو جاتے ہیں، جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رک جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دن بھر تھکن، چڑچڑاپن، کمزوری اور توجہ میں کمی جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ اگر کسی شخص کو رات میں بار بار کھانسی، سانس پھولنا، خراٹے یا بے چینی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ دمہ کی تشخیص کے لیے Spirometry Test، Chest Examination اور الرجی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جبکہ نیند کی خرابی کی جانچ کے لیے Sleep Study مفید ثابت ہوتی ہے۔
علاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ Inhalers دمہ کے علاج میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ بعض مریضوں کو مخصوص ادویات اور نیبولائزر کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ نیند کے مسائل کے لیے وزن میں کمی، تمباکو نوشی سے پرہیز، باقاعدہ ورزش اور سونے کے درست اوقات اپنانا بے حد ضروری ہے۔ شدید صورت میں CPAP Therapy بھی دی جاتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر عبداللہ سلیم نے کہا کہ صحت مند طرزِ زندگی، صاف ماحول اور بروقت علاج کے ذریعے دمہ اور نیند کی خرابی دونوں کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ عوام میں آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ ان بیماریوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔