• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • رینائی ریف واقعے پر چین کا سخت ردعمل، فلپائنی سفیر طلب

رینائی ریف واقعے پر چین کا سخت ردعمل، فلپائنی سفیر طلب

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 21, 2026 IST

رینائی ریف واقعے پر چین کا سخت ردعمل، فلپائنی سفیر طلب
 
 
 
چین نے منگل کو فلپائن کے سفیر کو اپنے دفتر بلایا۔ وجہ جنوبی بحیرہ چین میں دونوں ملکوں کی کشتیوں کے درمیان جھڑپ تھی۔ فلپائن سمیت خطے میں متعدد ممالک کے علاقائی دعوے ہیں جو چین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اور بھاری گشت والے آبی گزرگاہ پر جھگڑے باقاعدگی سے ہوتے رہتے ہیں۔
 

معاملہ کیسے پیش آیا ؟

پیر کے روز جنوبی بحیرہ چین کے ایک متنازعہ علاقے "رینائی ریف" کے پاس جھگڑا ہوا۔فلپائن کی فوج کا کہنا ہے کہ چائنہ کوسٹ گارڈ نے ان کے ایک ملاح کو لاٹھی سے مارا۔ یہ اس وقت ہوا جب فلپائنی کشتی ایک پرانے جنگی جہاز کے پاس جا رہی تھی۔ وہ جہاز فلپائن نے وہاں اپنی چوکی کے طور پر کھڑا کیا ہوا ہے۔
 

چین کا موقف

چین کا کہنا ہے کہ فلپائن نے پہلے اشتعال دلایا۔ چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فلپائن نے جان بوجھ کر جھگڑا کیا، پھر الٹا الزام لگا دیا۔ اسی لیے چین نے فلپائن کے سفیر کو بلا کر احتجاج کیا۔
 

دوسرے ملک کیا کہہ رہے ہیں؟

فلپائن کے دوست ممالک چین سے ناراض ہیں۔ 'آسٹریلیا' کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے چین کے "غیر مستحکم اور خطرناک رویے" کی مذمت کی۔
 'امریکہ' نے بھی چین کے "جارحانہ اقدامات" کو غلط کہا۔ امریکی وزیر خارجہ 'مارکو روبیو' منگل کو فلپائن پہنچے ہیں۔ وہ آسیان کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ " ایشیا میں سمندر میں آزادی سے جہاز چلانے" کے لیے حق کے ساتھ ہے۔ انہوں نے بالواسطہ چین کو خبردار کیا کہ اگر کوئی ملک اس سمندر کو "سیاسی ہتھیار" بنائے گا تو خطے کے لیے خطرہ ہوگا۔
 

جنوبی بحیرہ کیوں اہم ہے  ؟

جنوبی بحیرہ چین ایک بہت اہم سمندری راستہ ہے۔ چین تقریباً پورے سمندر پر اپنا حق جتاتا ہے۔ لیکن ایک عالمی عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ چین کا یہ دعویٰ قانونی نہیں ہے۔ فلپائن اور چین کے علاوہ بھی کئی ملک اس سمندر کے کچھ حصوں پر دعویٰ کرتے ہیں۔ اس وجہ سے وہاں اکثر چھوٹی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔