راہول گاندھی ہفتہ کو مہاراشٹر کے پونے میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں شرکت کرنے والے ہیں۔ ان کے پروگرام سے ایک رات پہلے ہی پونے کے کالج آف انجینئرنگ میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (NSUI) اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ واقعے کے بعد پولیس نے 50 سے 60 یوتھ کانگریس کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی میں اضافی اہلکار بھی تعینات کر دیے ہیں۔
ہاسٹل میں رات کے وقت ہوا تنازع
یہ واقعہ جمعہ کی رات تقریباً 8:30 بجے سے 11 بجے کے درمیان کالج آف انجینئرنگ، پونے (COEP) کے ہاسٹل میں پیش آیا۔ اے بی وی پی کے ارکان نے الزام لگایا کہ این ایس یو آئی کے کارکنوں نے کچھ طالبات پر ہفتہ کی شام ہونے والے راہول گاندھی کے پروگرام میں شرکت کے لیے دباؤ ڈالا اور انہیں دھمکایا۔ یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل اے بی وی پی کے کارکنوں نے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کی حمایت کرنے والی دو طالبات کو دھمکایا تھا۔ یوتھ کانگریس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان طالبات نے اپنی اسکالرشپ کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے تھے۔ ان الزامات اور جوابی الزامات کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان بحث ہوئی، جو بعد میں جھڑپ میں تبدیل ہوگئی۔
پولیس نے مقدمہ درج کرلیا
صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد پولیس نے مداخلت کی اور واقعے کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے 50 سے 60 یوتھ کانگریس کارکنوں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور مہاراشٹر پولیس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان میں ایسی دفعات شامل ہیں جو جان بوجھ کر معمولی جسمانی نقصان پہنچانے، غیر قانونی طور پر لوگوں کے جمع ہونے اور مجرمانہ دھمکی دینے سے متعلق ہیں۔ پولیس نے یونیورسٹی میں سکیورٹی بھی بڑھا دی ہے تاکہ مزید کسی ناگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ شکایت ایک 21 سالہ ABVP کارکن نے درج کرائی۔ اس کا نام ملہار نلیش پاٹل بتایا گیا ہے۔ اس نے الزام لگایا کہ ہاسٹل میں اس کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی گئی ،تنازع کی ایک اہم وجہ ایک طالب علم کی ویڈیوں بھی تھی۔ شکایت کے مطابق ہاسٹل میں ایک طالب علم سے مبینہ طور پر دباؤ ڈال کر ویڈیوں بیان ریکارڈ کروایا گیا تھا۔ ABVP کے کارکن اسی معاملے کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنے ہاسٹل پہنچے تھے۔ واقعے سے پہلے ABVP کارکنوں نے راہول گاندھی کے خلاف نعرے لگائے اور سڑک روکنے کی کوشش کی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور کچھ لوگوں کو حراست میں لیا۔ پولیس کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے
کانگریس نے بی جے پی کو نشانہ بنایا
واقعے کے بعد کانگریس کے کئی رہنماؤں نے کالج کا دورہ کیا۔ کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہر نوجوان کو راہول گاندھی کے پروگرام میں شرکت کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ کانگریس نے یونیورسٹی میں ہونے والے تشدد کو بھی افسوسناک قرار دیا۔ کانگریس رہنما نانا پٹولے نے کہا کہ اگر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو اپنے مسائل کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑ رہا ہے تو یہ حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
بی جے پی کا کانگریس پر الزام
دوسری جانب بی جے پی نے کانگریس پر ایک اور الزام عائد کیا۔ بی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر دعویٰ کیا کہ کانگریس کی جانب سے لوگوں کو راہول گاندھی کے پونے پروگرام میں شرکت کے لیے 25 ہزار روپے دینے کی پیشکش کی گئی۔ بی جے پی نے اس دعوے کے ذریعے راہول گاندھی کی مقبولیت اور پروگرام کے انتظامات پر سوال اٹھایا۔ کانگریس نے اس الزام پرکوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ فی الحال پولیس یونیورسٹی میں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ راہول گاندھی کے پونے دورے کے پیش نظر سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔
راہول گاندھی کا ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام صرف عام طلبہ کے مسائل تک محدود نہیں تھا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پروگرام میں خاص طور پر خواتین کے مسائل، خوف، تشدد، سماجی دباؤ، کم عمری کی شادی، اور خواتین کی آزادی جیسے موضوعات پر بات ہونی تھی۔ پروگرام کے لیے پولیس نے 30 شرائط رکھی تھیں۔ ان میں قابل اعتراض بینرز یا تصاویر پر پابندی اور مذہبی جذبات مجروح نہ کرنے کی ہدایات بھی شامل تھیں۔ پروگرام AISSMS" College Ground" میں ہونا طے کیا گیاہے اور سکیورٹی کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔