Wednesday, August 05, 2026 | 19 صفر 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • برج بھوشن سنگھ کیس میں نیا موڑ، پہلوانوں نے کیا ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ

برج بھوشن سنگھ کیس میں نیا موڑ، پہلوانوں نے کیا ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 04, 2026 IST

برج بھوشن سنگھ کیس میں نیا موڑ، پہلوانوں  نے کیا ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ
دہلی کی راؤس ایونیو عدالت کی جانب سے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (WFI) کے سابق صدر اور سابق بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کو مبینہ جنسی ہراسانی کے مقدمے میں بری کیے جانے کے بعد ملک بھر میں اس فیصلے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں عدالت کے فیصلے کو قانونی عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، وہیں شکایت کنندہ خواتین پہلوانوں اور ان کے حامیوں نے اس پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
 
فیصلے کے بعد اولمپین ونیش پھوگاٹ نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انصاف کے حصول کے دوران انہیں پورے نظام اور حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہیں ملا۔ دوسری جانب اولمپین بجرنگ پونیا نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بجرنگ پونیا نے کہا کہ ان کی لڑائی کسی ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ کھیلوں میں خواتین کے لیے محفوظ ماحول اور انصاف کے اصولوں کے لیے ہے۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلے کے خلاف آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
 
اس معاملے پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی 250 سے زائد تنظیموں اور کارکنوں نے بھی مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے میدان میں خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور شکایات پر مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کھلاڑیوں کے تحفظ اور احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔ ادھر برج بھوشن شرن سنگھ نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ابتدا ہی سے خود کو بے قصور بتایا تھا اور عدالت نے شواہد کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔
 
یہ مقدمہ گزشتہ دو برس سے ملک کے سب سے زیادہ زیرِ بحث قانونی اور کھیلوں سے متعلق تنازعات میں شامل رہا، جس کے دوران کئی نامور پہلوانوں نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج بھی کیا تھا۔ اب اس معاملے کا اگلا مرحلہ دہلی ہائی کورٹ میں قانونی چیلنج کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جہاں اس فیصلے پر دوبارہ عدالتی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کیس نے ایک بار پھر کھیلوں میں خواتین کے تحفظ، انصاف کے نظام، اور بااثر شخصیات کے خلاف الزامات کی تفتیش کے طریقۂ کار پر قومی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔