• News
  • »
  • صحت
  • »
  • جدید آئی سی یو میں کیسے بچائی جاتی ہیں شدید بیمار مریضوں کی جانیں

جدید آئی سی یو میں کیسے بچائی جاتی ہیں شدید بیمار مریضوں کی جانیں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 06, 2026 IST

جدید آئی سی یو میں کیسے بچائی جاتی ہیں شدید بیمار مریضوں کی جانیں
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Inside Modern ICU: Saving Critically Ill Patients" کے موضوع پر ایک نہایت معلوماتی اور فکر انگیز نشست پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر راجندر واجراپو، سینئر کنسلٹنٹ اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، کریٹیکل کیئر، کیئر ہاسپٹلس، ملک پیٹ، حیدرآباد نے جدید آئی سی یو (Intensive Care Unit) کے کردار، وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور نازک حالت میں مبتلا مریضوں کے علاج کے طریقۂ کار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
 
 ڈاکٹر راجندر واجراپو نے کہا کہ عام طور پر لوگ آئی سی یو کا نام سنتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید آئی سی یو وہ جگہ ہے جہاں جدید طبی سہولیات، تربیت یافتہ ڈاکٹروں، نرسوں اور جدید مشینوں کی مدد سے ایسے مریضوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے جن کی حالت انتہائی نازک ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی یو کا بنیادی مقصد صرف جان بچانا ہی نہیں بلکہ جسم کے متاثرہ اعضا کو دوبارہ معمول کے مطابق کام کرنے میں مدد فراہم کرنا بھی ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ شدید نمونیا، دل کا دورہ، فالج، سیپسس (Sepsis)، سنگین حادثات، سانس کی شدید تکلیف، گردوں کی اچانک خرابی، زہریلی ادویات کا اثر یا بڑی سرجری کے بعد بعض مریضوں کو آئی سی یو میں خصوصی نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہاں ہر مریض کی حالت پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی فیصلہ لیا جاتا ہے۔
 
ڈاکٹر واجراپو نے جدید آئی سی یو میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ وینٹی لیٹر، ملٹی پیرامیٹر مانیٹر، ڈائیلاسس مشین، انفیوژن پمپس، جدید امیجنگ سہولیات اور مسلسل لیبارٹری مانیٹرنگ کی بدولت مریض کی حالت میں آنے والی معمولی تبدیلی کو بھی فوری طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے، جس سے بروقت علاج ممکن ہو جاتا ہے۔
 
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کریٹیکل کیئر صرف مشینوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مربوط ٹیم ورک ہے، جس میں کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ، مختلف شعبوں کے ماہرین، نرسنگ اسٹاف، فزیوتھراپسٹ، غذائی ماہرین اور دیگر طبی عملہ مل کر مریض کی بحالی کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بروقت آئی سی یو میں داخلہ، درست تشخیص اور مسلسل نگرانی بہت سے مریضوں کی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
 
گفتگو کے دوران ڈاکٹر راجندر واجراپو نے عوام میں پائی جانے والی بعض غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر مریض جو آئی سی یو میں داخل ہوتا ہے، اس کی حالت لازماً ناقابلِ علاج نہیں ہوتی۔ جدید علاج، ادویات اور مسلسل نگرانی کی بدولت بہت سے مریض مکمل صحت یاب ہو کر اپنے معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ انہوں نے اہلِ خانہ کو بھی مشورہ دیا کہ وہ علاج کے دوران صبر و تحمل سے کام لیں، معالجین سے مسلسل رابطے میں رہیں اور غیر مصدقہ معلومات یا افواہوں پر یقین نہ کریں۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر راجندر واجراپو نے کہا کہ جدید کریٹیکل کیئر میڈیسن نے طب کے شعبے میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیماری کی ابتدائی علامات کو نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ بروقت اسپتال پہنچنا اور ضرورت پڑنے پر جدید آئی سی یو کی سہولت حاصل کرنا مریض کی زندگی بچانے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق عوامی آگاہی، بروقت علاج اور جدید طبی سہولیات کا امتزاج ہی بہتر نتائج کی ضمانت ہے۔
 
 قارئین ڈاکٹر راجندر واجراپو، سینئر کنسلٹنٹ اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، کریٹیکل کیئر، کیئر ہاسپٹلس، ملک پیٹ، حیدرآباد کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اور صحت سے جڑے کسی بھی معاملے پر دیگر ویڈیوز منصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔