سپریم کورٹ نے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اور سینئر وکیل کپل سبل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اس درخواست میں آئین کے دسویں شیڈول، یعنی انحراف مخالف قانون، کی تشریح پر نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ابتدائی سماعت کے دوران کہا کہ معاملہ نہایت اہم نوعیت کا ہے اور اس میں کئی ایسے آئینی اور قانونی سوالات شامل ہیں جن پر پارلیمنٹ کو بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے اس معاملے پر اپنا جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔
سینئر وکیل کپل سبل کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے دسویں شیڈول کی موجودہ تشریح بعض اوقات ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے ساتھ انضمام کا دعویٰ کرتے ہوئے انحراف مخالف قانون کے تحت نااہلی سے بچ جائیں۔ سماعت کے دوران کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قانونی تشریح کے باعث کئی مواقع پر اقلیتی جماعت اکثریتی حیثیت حاصل کر لیتی ہے، جبکہ اکثریت رکھنے والی جماعت اقلیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے عوامی مینڈیٹ بھی متاثر ہوتا ہے اور جمہوری نظام میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
عدالت نے بھی مشاہدہ کیا کہ یہ صرف ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ پارلیمانی جمہوریت اور سیاسی استحکام سے جڑا ایک اہم آئینی مسئلہ ہے، جس پر قانون ساز ادارے کو بھی غور کرنا چاہیے۔ بنچ نے واضح کیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور تمام متعلقہ فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔واضح رہے کہ آئین کا دسویں شیڈول 1985 میں انحراف مخالف قانون کے طور پر نافذ کیا گیا تھا تاکہ منتخب نمائندوں کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے سے روکا جا سکے۔ تاہم وقت کے ساتھ اس قانون کی مختلف تشریحات اور انضمام سے متعلق دفعات پر قانونی تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت یہ مقدمہ مستقبل میں انحراف مخالف قانون کی تشریح اور اس کے نفاذ کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔