دہلی کی ایک عدالت نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (WFI) کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کو چھ خواتین پہلوانوں کی جانب سے دائر مبینہ جنسی ہراسانی کے مقدمے میں بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اس مقدمے میں شریک ملزم اور ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو بھی تمام الزامات سے بری کر دیا۔
پیر کو سنائے گئے اس فیصلے کے ساتھ ہی تقریباً دو سال سے جاری اس ہائی پروفائل مقدمے کا اختتام ہو گیا۔ یہ کیس سال 2023 میں اس وقت قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا تھا، جب ملک کے کئی نامور پہلوانوں نے برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔
دہلی، خاص طور پر جنتر منتر پر ہونے والے طویل احتجاج نے اس معاملے کو قومی سیاست اور کھیلوں کے حلقوں میں ایک اہم موضوع بنا دیا تھا۔ احتجاج کرنے والے پہلوانوں نے الزام لگایا تھا کہ خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔عدالت کی جانب سے بری کیے جانے کے بعد برج بھوشن شرن سنگھ نے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے خوشی کا باعث ہے اور انہیں ابتدا ہی سے عدالتی نظام پر مکمل اعتماد تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے تمام شواہد اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا ہے۔
دوسری جانب، اس مقدمے کے فیصلے کے بعد کھیلوں اور سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، کیونکہ یہ معاملہ گزشتہ دو برسوں سے مسلسل عوامی اور میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔واضح رہے کہ اس کیس نے خواتین کھلاڑیوں کے تحفظ، کھیلوں کی تنظیموں میں احتساب اور شکایات کے ازالے کے نظام پر ملک گیر بحث کو جنم دیا تھا۔ اب عدالت کے فیصلے کے بعد اس ہائی پروفائل مقدمے کا قانونی مرحلہ اختتام کو پہنچ گیا ہے۔