یوم آزادی سے ایک دن قبل دہلی کے کئی اہم مقامات پر بم کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد دارالحکومت میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ دھمکیوں میں دہلی ایئرپورٹ، دہلی ہائی کورٹ، لال قلعہ اور دیگر اہم مقامات کا نام لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ایک دھمکی آمیز ای میل میں 15 اگست کو دہلی میں دھماکوں کی وارننگ دی گئی۔ ای میل میں دہلی ہائی کورٹ، ضلعی عدالتوں، لال قلعہ اور دہلی میں چلنے والی ٹرینوں کو ممکنہ نشانہ بتایا گیا۔ اب تک کی تلاشی اور جانچ کے دوران کسی بھی مقام سے کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کو بھی دھمکی
دھمکی آمیز ای میل میں دہلی ہائی کورٹ کے بارے میں خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ ای میل کی سبجیکٹ لائن میں دہلی ہائی کورٹ میں بم دھماکے کی بات لکھی گئی تھی۔ ای میل بھیجنے والے نے سکھوں سے متعلق معاملات، خاص طور پر 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق مقدمات میں عدالت پر انصاف نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ پیغام میں دہلی کو خالصتان کا حصہ بنانے کا حوالہ بھی دیا گیا۔
15 اگست کے لیے پہلے ہی دہلی میں ہائی الرٹ
دھمکیوں کے وقت دہلی پہلے ہی یوم آزادی کے لیے سخت سیکیورٹی میں تھا۔ ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر اہم ٹرانزٹ مقامات پر نگرانی بڑھائی گئی ہے اور سرحدی و فضائی نگرانی بھی سخت کی گئی ہے۔ لال قلعہ خاص طور پر اہم مقام ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی 15 اگست کو وہیں سے قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں پہلے ہی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
کئی دیگر مقامات بھی نشانے پر
حکام کو دہلی کے کئی دیگر مقامات کے بارے میں بھی بم کی دھمکیوں کی اطلاع ملی۔ ان میں جام نگر ہاؤس، جھنڈے والان کی ایک عمارت، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا دفتر، اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ٹرمینل 3 اور دہلی کینٹ کا ایس ڈی ایم دفتر شامل ہیں۔ دھمکیوں کے بعد فائر بریگیڈ، پولیس اور دیگر ہنگامی ٹیموں کو متعلقہ مقامات پر بھیجا گیا۔ تمام جگہوں پر تلاشی اور جانچ کی گئی، لیکن ابھی تک کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔
یوم آزادی سے پہلے دہلی میں سیکیورٹی مزید سخت
یوم آزادی کی تقریبات سے پہلے دہلی پولیس نے پہلے ہی شہر میں سیکیورٹی بڑھا دی تھی۔ پولیس کو پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں، خالصتانی گروہ اور اچانک احتجاج کے حوالے سے ممکنہ خطرات کی اطلاعات ملی تھی۔ سیکیورٹی کے تحت پولیس نے 19 مطلوب دہشت گردوں کی تصاویر بھی دہلی کے مختلف مقامات پر لگائی ہیں۔ ان میں انڈین مجاہدین، القاعدہ اور خالصتانی گروہوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف سیکیورٹی اور خفیہ ایجنسیاں مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی تقریبات کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیاں چوکس
حکام نے کہا ہے کہ موجودہ خطرے اور حالیہ خفیہ اطلاعات کا جائزہ لینے کے بعد سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اہم مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری کاروائی کے لیے ٹیمیں تیار رکھی گئی ہیں۔ فی الحال، دھمکیوں کے باوجود کسی بھی مقام سے بم یا کوئی مشتبہ چیز برآمد نہیں ہوئی ہے۔