دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس کے معاملے میں دہلی پولیس نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 15 سالہ کمسن لڑکی کے خلاف نہ کوئی مقدمہ درج کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے یہ فیصلہ کیس کے تمام حقائق، دستیاب شواہد اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس معاملے میں ابتدائی طور پر نوئیڈا میں درج کی گئی زیرو ایف آئی آر کو بعد میں دہلی منتقل کیا گیا تھا، جس کے بعد دہلی پولیس نے معاملے کی تفصیلی جانچ کی۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی مدنظر رکھا گیا کہ متعلقہ لڑکی نابالغ ہے، جس کے باعث قانونی ضابطوں اور نوعمر افراد سے متعلق قوانین کے مطابق کارروائی پر غور کیا گیا۔ اسی جائزے کے بعد پولیس نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے میں اس کے خلاف فوجداری کارروائی آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب جنتر منتر پر منعقدہ احتجاج کے دوران وزیر اعظم کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کیے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس کے بعد مختلف مقامات پر شکایات درج کرائی گئیں اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
دہلی پولیس کے تازہ فیصلے کے بعد اس کیس میں نابالغ لڑکی کو قانونی کارروائی سے راحت مل گئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج اور عوامی اجتماعات کے دوران قانون و ضابطے کی پابندی ہر شہری کی ذمہ داری ہے، اور مستقبل میں ایسے معاملات میں حقائق اور قانون کے مطابق ہی فیصلے کیے جائیں گے۔