دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران خواتین مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز کے بعد مختلف سماجی حلقوں اور عوام کی جانب سے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
احتجاج میں شریک طلبہ اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ امتحانی بے ضابطگیوں اور دیگر مطالبات کے سلسلے میں پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ کارروائی کے دوران بعض خواتین مظاہرین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پولیس کا مؤقف ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔ تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا کارروائی مکمل طور پر مقررہ ضابطوں اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کی گئی یا نہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق خواتین مظاہرین سے متعلق کارروائی کے لیے واضح قواعد موجود ہیں، جن پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر ان ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری ملک میں شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے، جبکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ہر شہری، خصوصاً خواتین کے وقار اور تحفظ کو بھی یقینی بنائیں۔
اس واقعے کے بعد عوامی سطح پر کئی اہم سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر خواتین کے ساتھ واقعی بدسلوکی ہوئی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟ اگر کارروائی قانون کے مطابق کی گئی تھی تو اس کی مکمل تفصیلات بھی عوام کے سامنے آنی چاہئیں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی باقی نہ رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں جذبات سے زیادہ شفافیت اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی سے نہ صرف حقیقت سامنے آ سکتی ہے بلکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف کے نظام پر اعتماد بھی برقرار رہتا ہے۔
فی الحال مختلف سماجی تنظیمیں اور شہری حقوق کے کارکن اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں