انسانی حقوق کے کارکن اور شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج میں سرگرم رہنے والے خالد سیفی تقریباً چھ سال بعد سپریم کورٹ کی جانب سے چھ ماہ کی عبوری ضمانت ملنے کے بعد تہاڑ جیل سے باہر آ گئے۔ خالد سیفی سال 2020 کے دہلی تشدد کیس میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت گرفتار کیے گئے تھے اور تب سے عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے انتظار میں جیل میں تھے۔
رہائی کے بعد میڈیا اور حامیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے خالد سیفی نے کہا،“Process is the punishment”۔ ان کے اس جملے کو طویل قانونی کارروائی اور برسوں کی حراست پر ایک تبصرہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مقدمات برسوں تک چلتے رہیں اور کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچیں تو صرف عدالتی عمل بھی ایک طرح کی سزا بن جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دیتے ہوئے بعض شرائط بھی عائد کی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ مقدمے کے میرٹ پر حتمی رائے نہیں ہے بلکہ مخصوص حالات اور زیر سماعت کارروائی کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت اور قانونی عمل بدستور جاری رہے گا۔
خالد سیفی ان متعدد افراد میں شامل ہیں جنہیں 2020 کے شمال مشرقی دہلی تشدد سے متعلق تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر ایک وسیع سازش کا حصہ تھے، جبکہ ان کے حامی اور کئی شہری حقوق کے گروپ مسلسل یہ مؤقف رکھتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور انہیں احتجاجی سرگرمیوں کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ مقدمہ شواہد اور قانونی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے اور عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے۔
خالد سیفی کی رہائی نے ایک بار پھر اس بحث کو تیز کر دیا ہے کہ طویل عرصے تک مقدمات کے فیصلے کے بغیر حراست، ضمانت کے اصول، اور سخت قوانین کے استعمال کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ آنے والے مہینوں میں اس کیس کی پیش رفت پر سب کی نظریں رہیں گی۔