Wednesday, July 15, 2026 | 28 محرم 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ۔ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کے نئے دعوے، تہران کا سخت ردعمل

امریکہ۔ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کے نئے دعوے، تہران کا سخت ردعمل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 14, 2026 IST

امریکہ۔ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کے نئے دعوے، تہران کا سخت ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر سخت بیانات دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوج شدید حملوں کے باعث تقریباً تباہ ہو چکی ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مسلسل ایران پر حملے کر رہا ہے اور تہران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج اب پہلے جیسی طاقت نہیں رکھتی اوراسے بھاری نقصان پہنچ چکا ہے۔
 
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، تاہم تہران نے اسے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق ایران نے معاہدے کی بعض شقوں پر اعتراض کرتے ہوئے اس سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا، جسے امریکہ کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا اور ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
 
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کی ان تمام صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس اہم بحری راستے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ آخرکار پورے خطے کی صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔ ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر بھی سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ہزاروں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
 
دوسری جانب امریکی صدر کے حالیہ اعلان نے ایک نئے تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر 20 فیصد سیکیورٹی فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس عالمی بحری راستے کا محافظ ہے، اس لیے جہازوں کو اس تحفظ کے بدلے فیس ادا کرنی چاہیے۔
 
ایران نے اس بیان پر فوری اور سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا حقیقی محافظ ایران ہے اور ہمیشہ ایران ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی قسم کی فیس وصول کی جائے گی تو اس کا حق بھی ایران کو حاصل ہے، نہ کہ امریکہ کو۔
 
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی قومی سلامتی اور خودمختاری کا اہم حصہ ہے، اور تہران اس علاقے پر اپنا مؤقف کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
 
ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے ان متضاد بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی، تیل کی قیمتوں اور خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کشیدگی کم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔