امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اپنے ایک منفرد بیان کی وجہ سے بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں آ گئے ہیں۔ اس بار معاملہ کسی انتخابی ریلی یا خارجہ پالیسی کا نہیں، بلکہ ان کے خاندان کی ایک نجی تقریب سے متعلق ہے۔ صدر ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی بہاماس (Bahamas) میں ہونے والی شادی کے چرچے پہلے ہی سیاسی حلقوں میں جاری تھے، لیکن اسی دوران وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ شادی میں جائیں یا نہ جائیں، دونوں ہی صورتوں میں میڈیا ان پر تنقید کرے گا۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا ہے۔
بیٹینا اینڈرسن سے شادی کر رہے ہیں ٹرمپ جونیئر:
رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اس 'میموریل ڈے ویک اینڈ' پر پام بیچ کی معروف سماجی شخصیت بیٹینا اینڈرسن سے شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں۔ یہ تقریب بہاماس میں انتہائی نجی سطح پر منعقد ہوگی، جس میں صرف قریبی رشتہ دار اور دوست احباب شریک ہوں گے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے روایتی انداز میں میڈیا پر طنز کرتے ہوئے کہا،اگر میں بیٹے کی شادی میں جاتا ہوں تو بھی مارا جاؤں گا (شدید تنقید ہوگی) اور اگر نہیں جاتا، تب بھی 'فیک نیوز' (میڈیا) مجھے ہی نشانہ بنائے گی۔ میرا بیٹا چاہتا ہے کہ میں اس کی زندگی کے اس اہم دن پر وہاں موجود رہوں، لیکن موجودہ حالات میں یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔
ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ٹرمپ کی دُودھاری تلوار:
ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ موجودہ عالمی اور بین الاقوامی حالات ان کے اس فیصلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی حکومت ایران کے ساتھ جاری شدید تناؤ سمیت کئی اہم عالمی بحرانوں سے نمٹ رہی ہے۔ ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں کہا،میرے سامنے اس وقت ایران جیسے بڑے اور حساس مسائل ہیں، اس لیے یہ وقت میرے لیے بالکل آسان نہیں ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی انتظامیہ پر پہلے ہی شدید سیاسی دباؤ ہے۔ ایسے میں صدر کا ملک چھوڑ کر کسی نجی جزیرے پر شادی کی تقریب میں جانا اپوزیشن اور میڈیا کو حکومت کے خلاف ایک نیا ہتھیار دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اپنے ہر قدم کے سیاسی اثرات کو لے کر حد درجہ محتاط ہیں۔
ٹرمپ خاندان کی نجی زندگی اور قومی بحث:
ٹرمپ خاندان طویل عرصے سے امریکی سیاست اور کاروباری دنیا کا ایک بااثر ترین حصہ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیرڈ کشنر ان کی سابقہ انتظامیہ میں انتہائی بااثر کردار ادا کر چکے ہیں، جبکہ ایرک ٹرمپ اور خاندان کے دیگر اراکین بھی ریپبلکن سیاست میں سرگرم ہیں۔
حال ہی میں صدر ٹرمپ نے کیمبرلی گلفائل کو یونان (Greese) میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا ہے، جو اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ساتھ رشتے میں رہ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ٹرمپ خاندان کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ ہے کہ ان کے گھر کی ہر نجی تقریب بھی امریکہ میں ایک بڑی قومی اور سیاسی بحث کا موضوع بن جاتی ہے۔