Tuesday, September 01, 2026 | 17 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • یوپی،کوشامبی: پٹاخے فیکٹری میں زوردار دھماکہ،11افراد ہلاک،5زخمی

یوپی،کوشامبی: پٹاخے فیکٹری میں زوردار دھماکہ،11افراد ہلاک،5زخمی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 31, 2026 IST

 یوپی،کوشامبی: پٹاخے فیکٹری میں زوردار دھماکہ،11افراد ہلاک،5زخمی
اتر پردیش کے ضلع کوشامبی میں پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں پیر کے روز ایک زبردست دھماکہ ہوا ۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک 11 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ پانچ زخمی پریاگ راج کے سوروپ رانی نہرو (SRN) ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حکام نے کہا کہ انہوں نے جاری سرچ آپریشن کے دوران جو بھی پایا اس کے لیے فوری طبی امداد کا انتظام کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکا اتنا زوردار تھا کہ پوری فیکٹری ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ کوشامبی کے ضلع مجسٹریٹ امیت کمار پال نے11 لوگوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔

ریسکیو آپریشن 

ضلع مجسٹریٹ امیت پال نے بتایا کہ دھماکہ پپری تھانہ علاقہ کے تحت منوری گاؤں میں پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں ہوا جس کے بعد پانچ زخمی لوگ جنہیں پریاگ راج کے ایس آر این اسپتال ریفر کیا گیا تھا علاج کے دوران فوت ہو گئے۔امیت کمار پال  کے مطابق، تقریباً 8 سے 10 JCB مشینیں جائے وقوعہ پر تعینات کی گئی ہیں، اور بچاؤ آپریشن تقریباً چار گھنٹے سے مسلسل جاری ہے۔ آئی جی اور ڈی آئی جی جیسے سینئر حکام سمیت پولیس کی بڑی نفری موقع پر موجود ہے۔ضلع مجسٹریٹ امیت پال شرما نے کہا کہ بچاؤ اور راحت کی کاروائیاں ابھی بھی جاری ہیں، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیمیں اس مقام پر تعینات ہیں۔

50 میٹر کے دائرے میں موجود مکانات کو نقصان 

دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ پٹاخوں کی فیکٹری مکمل طور پر منہدم ہو گئی۔ اس کا اثر آس پاس کے علاقے میں بھی محسوس کیا گیا، رپورٹس کے مطابق فیکٹری کے 50 میٹر کے دائرے میں واقع پانچ سے سات مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔اطلاعات کے مطابق دھماکے کی آواز تقریباً دو کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد دھوئیں کے بڑے بادل آسمان پر اٹھتے دیکھے گئے جس نے آس پاس کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فیکٹری کے اندر پٹاخوں کے درمیان لگنے والی آگ نے چھوٹے اور بڑے دھماکوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جس سے ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہو گیا اور علاقے کو کچھ دیر کے لیے خطرناک بنا دیا۔

 25 کے قریب کارکن فیکٹری میں تھے

ابتدائی معلومات کے مطابق پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں 25 کے قریب مزدور کام کر رہے تھے جب دھماکہ ہوا۔ یہ فیکٹری کوشامبی کے پورمفتی پولیس اسٹیشن حدود کے تحت منوری علاقے میں واقع ہے۔ پولیس، فائر بریگیڈ کے عملے اور انتظامی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر تعینات کیا گیا ہے۔ امدادی اور بچاؤ کی کاروائیاں جاری ہیں، ٹیمیں آگ کو مکمل طور پر بجھانے اور منہدم ڈھانچے کو صاف کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ ان لوگوں کو تلاش کیا جا سکے جو اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ منوری ایئر فورس اسٹیشن اس مقام سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور کوشامبی اور پریاگ راج سے ایئر فورس، پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں ریسکیو آپریشن میں شامل تھیں۔

سخت کاروائی کی یقین دہانی

ضلع مجسٹریٹ نے سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ فوجداری مقدمات قانون کی سنگین دفعات کے تحت درج کیے جائیں گے اور حکومتی ہدایات کے مطابق جائیداد کی قرق سمیت سخت اقدامات شروع کیے جائیں گے۔

سی ایم کا اظہار افسوس ایکس گریشا کا اعلان

چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ وہ امدادی کارروائیوں میں تیزی لائیں اور زخمیوں کا مناسب طبی علاج یقینی بنائیں۔ انہوں نے انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور زیر علاج افراد کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

 دل دہلادینے والا سانحہ: ڈپٹی سی ایم

نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے بھی اس سانحہ پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک ہی خاندان کے متعدد افراد کے کھو جانے کو دل دہلا دینے والا قرار دیا۔ انہوں نے ہسپتال کے حکام کو زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے کی ہدایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ جانیں بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔آفت کے بعد ہونے والی تباہی نے دھماکوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے پیمانے پر روشنی ڈالی۔ جائے وقوعہ سے ملنے والی تصاویر میں لواحقین کو لاپتہ کنبہ کے افراد کو ملبے میں ڈھونڈتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ دیگر اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات کے لیے ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔