بھارت کے "فوڈ سیفٹی ریگولیٹر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا " نے ڈابر انڈیا کو اپنی کچھ مصنوعات پر کیے گئے "100 فیصد" دعووں کی وجہ سے کاروائی کا سامنا کرنے کو کہا ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے ڈابر کی ویب سائٹ پر فروخت ہونے والی کچھ مصنوعات کے لیبل اور دعووں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ 100 فیصد قدرتی، 100 فیصد خالص، اور اس طرح کے دعوے قوانین کے خلاف ہیں۔
کن مصنوعات پر اعتراض کیا گیا؟
ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق ڈابر کی کئی مصنوعات پر ایسے دعوے کیے گئے تھے جن میں شامل ہیں: شہد، گائے کا گھی، ناریل کا تیل، تل کا تیل,ناریل کا پانی، ناریل کا دودھ، ایپل سائڈر سرکہ اور دیگر مصنوعات، ریگولیٹر نے کہا کہ ان مصنوعات کے لیے ،100 فیصد قدرتی، 100 فیصد پیور، 100 فیصد پیوریٹی گارنٹیڈ، 100 فیصد آرگینک اور 100 فیصد ٹینڈر کوکونٹ واٹر، جیسے دعوے استعمال کیے گئے۔
ایف ایس ایس اے آئی نے دعووں کو قانون کے خلاف قرار دیا
ایف ایس ایس اے آئی کا کہنا ہے کہ کھانے کی مصنوعات پر "100 فیصد" جیسے دعوے ایف ایس ایس (اشتہارات اور دعوے) ضوابط, 2018 کے خلاف ہیں۔ ریگولیٹر کے مطابق ایسے دعوے واضح نہیں ہوتے، ان کی تصدیق کرنا مشکل ہوتا ہے اور یہ صارفین کو گمراہ کر سکتے ہیں۔
ایف ایس ایس اے آئی نے یہ بھی کہا کہ ڈابر ہمالین آرگینک ایپل سائڈر سرکہ اور ڈابر آرگینک ہنی پر درست تصدیق کے بغیر "جیویک بھارت لوگو" استعمال کیا گیا، جو خوراک کی حفاظت اور معیارات (نامیاتی خوراک) ضوابط, 2017 کی خلاف ورزی ہے۔
ڈابر کو 15 دن میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت
ایف ایس ایس اے آئی نے ڈابر کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ایسی مصنوعات کی فروخت روک دے جن پر یہ دعوے کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی سے کہا گیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر ایکشن ٹیکن رپورٹ جمع کرے اور بتائے کہ اس معاملے پر کیا کاروائی کی گئی ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق اس سے پہلے بھی کمپنی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، لیکن اس پر کوئی اصلاحی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
ڈابر کا ردعمل
ڈابر انڈیا نے کہا ہے کہ اسے ایف ایس ایس اے آئی کا نوٹس موصول ہو گیا ہے اور کمپنی اپنی ویب سائٹ پر موجود مواد کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ معاملے کو دیکھ رہی ہے اور اس کے مطابق ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔
ایف ایس ایس اے آئی پہلے بھی جاری کر چکا ہے ایڈوائزری
ایف ایس ایس اے آئی نے مئی 2025 میں بھی کھانے کی صنعت کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی تھی، جس میں کمپنیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پیکیجنگ، لیبلز اور اشتہارات میں "100 فیصد" جیسے دعوے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ ریگولیٹر نے کہا تھا کہ موجودہ قوانین میں "100 فیصد" کی واضح تعریف موجود نہیں ہے، اور ایسے دعوے صارفین میں مکمل خالص پن یا برتری کے بارے میں غلط تاثر پیدا کر سکتے ہیں۔