Monday, May 25, 2026 | 07 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • فالٹا اسمبلی انتخابی نتائج: بی جے پی امیدوار کو یکطرفہ برتری حاصل ،چوتیس ہزار سے زائد ووٹوں سے آگے

فالٹا اسمبلی انتخابی نتائج: بی جے پی امیدوار کو یکطرفہ برتری حاصل ،چوتیس ہزار سے زائد ووٹوں سے آگے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 24, 2026 IST

فالٹا اسمبلی انتخابی نتائج: بی جے پی  امیدوار کو یکطرفہ برتری حاصل ،چوتیس  ہزار سے زائد ووٹوں سے آگے
مغربی بنگال کی سیاست میں آج سب کی نظریں جنوبی 24 پرگنہ ضلع کی اہم فالٹا (Falta) اسمبلی سیٹ کے انتخابی نتائج پر ٹکی ہوئی ہیں۔ صبح 8 بجے سے شروع ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی رجحانات سے ہی بی جے پی نے یہاں مضبوط گرفت بنا لی ہے۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما اور وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی کابینہ کے وزیر دلیپ گھوش نے فالٹا میں تاریخی جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں مقابلہ ختم ہو چکا ہے کیونکہ ترنمول کانگریس (TMC) کے لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔
 
نویں راؤنڈ کی گنتی،بی جے پی چوتیس  ہزار سے زائد ووٹوں سے آگے:
 
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کل 21 راؤنڈز میں سے اب تک 9 راؤنڈز کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، جس میں بی جے پی کے امیدوار دیبانگشو پانڈا نے اپنے حریفوں پر بڑی برتری حاصل کر لی ہے۔انہیں 57 ہزار سے زائد ووٹ مل چکے ہیں، جبکہ سی پی آئی ایم دوسرے نمبر پر ہے۔اور تیسرے نمبر پر کانگریس۔
 
ای وی ایم تنازع اور دوبارہ پولنگ:
 
واضح رہے کہ اس سے قبل 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران فالٹا سیٹ پر سنگین گڑبڑیوں اور انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) پر عطر جیسی کوئی چیز چھڑکنے اور مشینوں کے بٹنوں پر ٹیپ لگانے کے عجیب و غریب الزامات لگے۔ اس بڑے تنازع کے بعد الیکشن کمیشن نے سابقہ پولنگ کو منسوخ کرتے ہوئے پورے انتخابی حلقے میں دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا تھا۔
 
ٹی ایم سی امیدوار جہانگیر خان کی دستبرداری اور نیا سیاسی موڑ:
 
گزشتہ جمعرات کو فالٹا اسمبلی حلقے کے تمام 285 پولنگ اسٹیشنوں پر سخت سیکیورٹی کے درمیان دوبارہ پولنگ کرائی گئی، جو خوش آئند بات ہے کہ مکمل طور پر پرامن رہی اور کہیں سے بھی تشدد کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
 
اس دوبارہ پولنگ سے ٹھیک پہلے ترنمول کانگریس کے امیدوار جہانگیر خان نے الیکشن نہ لڑنے اور میدان سے دستبردار ہونے کا اچانک اعلان کر دیا تھا، جس نے بی جے پی کی راہ انتہائی آسان کر دی۔ تاہم، تکنیکی طور پر ان کا یہ فیصلہ محض ایک رسمی اعلان ہی رہا، کیونکہ ای وی ایم مشینوں پر ان کا نام اور انتخابی نشان موجود تھا، جس کی وجہ سے انہیں اب تک 2902 ووٹ بھی مل چکے ہیں۔
 
اب سیاسی حلقوں میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا فالٹا میں بی جے پی کی یہ برتری شام تک ایک بڑی تاریخی فتح میں تبدیل ہوگی، یا پھر ترنمول کانگریس کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر سی پی آئی ایم اور کانگریس کا اتحاد کوئی نیا 'کھیلا' کرنے میں کامیاب ہو پائے گا۔ حتمی نتائج دوپہر یا شام تک واضح ہونے کی امید ہے۔