اتر پردیش کے ضلع ہردوئی کے کھٹہنا( Khutehna )گاؤں کی رہنے والی 23 سالہ انجلی نے یوپی پولیس کے سب انسپکٹر (SI) امتحان میں کامیابی حاصل کر کے اپنے خاندان اور گاؤں کا نام روشن کر دیا ہے۔
انجلی ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے والد رام مورتی کسان ہیں جبکہ اس کی والدہ گھریلو خاتون(Housemaker) ہیں۔ انجلی اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے۔ اس نے گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مسابقتی امتحانات کی تیاری بھی جاری رکھی۔یوپی پولیس کے سب انسپکٹر امتحان کی تیاری کے لیے انجلی ہردوئی شہر کے آواس وکاس علاقے میں رہ کر کوچنگ حاصل کرتی رہی۔ اس کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔
پہلی کوشش میں ناکامی ملی
سال 2024 میں انجلی نے یوپی پولیس کانسٹیبل کا امتحان دیا تھا، لیکن وہ جسمانی دوڑ (فزیکل رننگ ٹیسٹ) میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس ناکامی کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے مزید محنت کے ساتھ تیاری جاری رکھی۔
دوسری کوشش میں خواب پورا ہوا
سال 2025 میں ہونے والے یوپی پولیس سب انسپکٹر (SI) امتحان میں انجلی نے کامیابی حاصل کر لی اور پولیس افسر بننے کا اپنا خواب پورا کر لیا۔
کامیابی کا سہرا والدین اور اساتذہ کو دیا
اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انجلی نے کہا کہ اس کے والدین، خاندان اور کوچنگ کے اساتذہ نے ہر قدم پر اس کا ساتھ دیا، جس کی بدولت وہ آج یہ کامیابی حاصل کر سکی۔ اس نے کہا کہ اگر انسان اپنا مقصد طے کر کے ایمانداری اور محنت سے کام کرے تو ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہے۔
پڑھائی میں بھی ہمیشہ اچھی طالبہ رہی
انجلی شروع سے ہی پڑھائی میں اچھی طالبہ رہی ہے۔ اس نے دیانند انٹر کالج، سورسہ سے 2018 میں دسویں اور 2020 میں بارہویں جماعت پاس کی۔ اس کے بعد اس نے ہردوئی کے آرکنیا ڈگری کالج سے بیچلر آف آرٹس (بی اے) کی ڈگری حاصل کی۔
دوسرے نوجوانوں کے لیے مثال بن گئی
انجلی کی کامیابی ان نوجوانوں کے لیے ایک مثال بن گئی ہے جو کسی ناکامی کے بعد مایوس ہو جاتے ہیں۔ اس کی کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ ایک بار ناکام ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکتا۔ مسلسل محنت، صبر اور عزم سے ہر خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔
انجلی کی اس کامیابی پر اس کے خاندان، رشتہ دار اور گاؤں کے لوگ خوشی منا رہے ہیں اور اس پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں۔