Monday, May 25, 2026 | 07 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • فرانس کا اسرائیلی وزیر پر بڑا ایکشن، فلوٹیلا رضاکاروں کی توہین پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد

فرانس کا اسرائیلی وزیر پر بڑا ایکشن، فلوٹیلا رضاکاروں کی توہین پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 24, 2026 IST

فرانس کا اسرائیلی وزیر پر بڑا ایکشن، فلوٹیلا رضاکاروں کی توہین پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد
فرانس نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے متنازع رہنما اور قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے ان کے فرانسیسی حدود میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ فرانسیسی حکومت نے یہ قدم گزشتہ دنوں غزہ جانے والے 'سمود فلوٹیلا'مہم کے انسانی حقوق کے کارکنوں اور رضاکاروں کی توہین اور ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے بعد اٹھایا ہے۔
 
واضح رہے کہ فرانس سے پہلے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ناروے، سلووینیا اور نیدر لینڈز جیسے متعدد ممالک بھی ایتمار بن گویر کے اپنے ہاں داخلے پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
 
فرانسیسی وزیرِ خارجہ کا سوشل میڈیا پر اعلان:
 
فرانس کے وزیرِ خارجہ جین نویل باروٹ نے سوشل میڈیا پر ایک باضابطہ پوسٹ کے ذریعے اس فیصلے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے ایتمار بن گویر کا فرانس کی سرزمین پر داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری بیڑے کے کارکنوں کے ساتھ کیے گئے غیر انسانی سلوک پر دنیا بھر کی حکومتوں میں پائے جانے والے شدید غصے اور ناراضگی کا عکاس ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا،میں اپنے اطالوی ہم منصب (اٹلی کے وزیرِ خارجہ) کے ساتھ مل کر یورپی یونین (EU) سے بھی پرزور اپیل کر رہا ہوں کہ وہ اجتماعی طور پر ایتمار بن گویر کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرے۔
 
کیا تھا پورا معاملہ؟
 
 18 مئی2026 کو اسرائیلی فوج نے محصور شہر غزہ کے لیے امدادی سامان اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد لے جانے والے 'سمود فلوٹیلا' کے بحری جہازوں کو بین الاقوامی سمندر میں روک لیا تھا۔ اس کاروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے جہاز پر سوار 10 انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور رضاکاروں کو حراست میں لے لیا ۔
 
اس کے بعد، اسرائیل کے وزیرِ داخلہ و قومی سلامتی ایتمار بن گویر اس جگہ پہنچے جہاں ان زیرِ حراست کارکنوں کو رکھا گیا تھا۔ انہوں نے وہاں سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ زمین پر زبردستی گرائے گئے اور باندھے گئے بین الاقوامی رضاکاروں کا مذاق اڑاتے ہوئے نظر آئے۔ بعد ازاں، رہا ہونے والے کچھ کارکنوں نے الزام لگایا کہ حراست کے دوران اسرائیلی اہلکاروں نے ان پر شدید تشدد بھی کیا تھا۔
 
عالمی برادری کی برہمی اور نیتن یاہو کی صفائی:
 
بن گویر کی طرف سے نہتے اور پرامن رضاکاروں کی تذلیل کرنے، ان کا مذاق اڑانے اور اسرائیلی فورسز کی مارپیٹ کی اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے کئی ممالک نے اس پر سخت ترین اعتراض اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ عالمی برادری کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور تنقید کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی اس معاملے پر صفائی دینی پڑی۔
 
 نیتن یاہو نے بن گویر کے اس رویے سے دوری اختیار کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے وزیر کی یہ حرکت اور سلوک "اسرائیلی اقدار اور اخلاقیات کے مطابق نہیں ہے"۔ تاہم، عالمی برادری نے اس زبانی سفائی کو کافی نہیں مانا اور فرانس نے عملی کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔