تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جو معاشرے کو شعور، ہنر اور بہتر مواقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن اگر سرکاری اسکول ہی ایک کے بعد ایک بند ہونے لگیں تو یہ صرف تعلیمی نظام کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پوری قوم کے مستقبل سے جڑا ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔
نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں ملک بھر میں تقریباً 94 ہزار سرکاری اسکول بند ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوسطاً ہر روز تقریباً 25 سرکاری اسکول بند ہوئے۔ اسی عرصے میں سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد تقریباً 11 لاکھ سے کم ہو کر 10 لاکھ رہ گئی۔
یہ اعداد و شمار کئی اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری اسکول مسلسل بند ہو رہے ہیں تو دیہی علاقوں، قبائلی بستیوں اور غریب خاندانوں کے لاکھوں بچوں کی تعلیم کا کیا ہوگا؟ جن علاقوں میں ایک ہی سرکاری اسکول موجود تھا، وہاں بچوں کو اب کتنی دور جا کر تعلیم حاصل کرنا پڑے گی؟ کیا ہر جگہ متبادل تعلیمی انتظامات کیے گئے ہیں یا بہت سے بچے تعلیم سے ہی محروم ہو جائیں گے؟
حکومت کا موقف یہ ہو سکتا ہے کہ بعض اسکولوں کو کم طلبہ، آبادی میں تبدیلی، وسائل کے بہتر استعمال یا اسکولوں کے انضمام (Merger) کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کیا ہر متاثرہ علاقے میں بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہونے کو یقینی بنایا گیا؟ کیا نئی سہولیات، بہتر ٹرانسپورٹ، اضافی اساتذہ اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا گیا؟
تعلیم صرف اسکول کی عمارت کا نام نہیں، بلکہ یہ ہر بچے کے خواب، مستقبل اور مواقع سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک اسکول بند ہونے کا مطلب صرف ایک عمارت کا بند ہونا نہیں بلکہ کئی بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی مشکل ہو جانا بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نجی اسکولوں کی سہولت موجود نہیں یا ان کی فیس عام خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔
عوام حکومت سے یہ جاننا چاہتی ہے کہ سرکاری تعلیم کو مزید مضبوط بنانے، اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنے، اساتذہ کی کمی دور کرنے اور ہر بچے تک معیاری تعلیم پہنچانے کے لیے آئندہ کیا جامع حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ بند کیے گئے اسکولوں کے اثرات کا شفاف جائزہ عوام کے سامنے رکھا جائے۔
ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ملک کی بنیاد مضبوط تعلیمی نظام پر قائم ہوتی ہے۔ جب تک ہر بچے کو بلا امتیاز معیاری اور آسان تعلیم کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی، تب تک ترقی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے تعلیم کو ترجیح دینا اور ہر بچے کے حقِ تعلیم کا تحفظ کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔