کیا آپ نے اچانک داڑھی بڑھا لی ہے؟ کیا آپ چہرے پر نقاب پہنتی ہیں یا اپنی روزمرہ کی گفتگو میں عربی الفاظ کا استعمال کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہوشیار ہو جائیے، کیونکہ گجرات پولیس کی نظر میں اب آپ ایک "بنیاد پرست" ہو سکتے ہیں۔
جون 2026 میں گجرات انٹیلی جنس بیورو کی ایک مبینہ سرکاری دستاویز یعنی SOP (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) منظرِ عام پر آنے کے بعد ریاست میں ایک نیا سیاسی اور سماجی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس دستاویز کے تحت ریاست بھر میں 'اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل' (Anti-Radicalization Cells) قائم کیے جا رہے ہیں، اور جام نگر اس سلسلے میں پہلا ایسا ضلع بن بھی چکا ہے جہاں یہ سیل فعال ہو گیا ہے۔
پروفائلنگ کا الزام اور متنازع تعریفیں
اصل تنازع اس دستاویز میں 'بنیاد پرست' کی طے کردہ تعریف پر ہے۔ ناقدین اور حقوقِ انسانی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ SOP سیدھے طور پر ایک مخصوص برادری کی مذہبی پروفائلنگ کرتی نظر آتی ہے۔ دستاویز کے مطابق درج ذیل علامات کو مشکوک یا بنیاد پرستی کی نشانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اچانک داڑھی رکھنا یا چہرے پر نقاب پہننا ،گفتگو میں عربی الفاظ کا کثرت سے استعمال کرنا ،غزہ یا مسلمانوں سے جڑے عالمی واقعات پر شدید ردعمل یا مخالفت کا اظہار کرنا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طویل سرکاری دستاویز میں جہاں 'عربی الفاظ'، 'نقاب' اور 'داڑھی' کا خاص طور پر ذکر ہے، وہاں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے سنگین جرائم جیسے 'موب لنچنگ' یا 'نفرت انگیز تقریر' (Hate Speech) کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ہے۔
شناخت پر دوہرے معیار کا سوال
اس نئی پالیسی نے عوامی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر سر پر چوٹی رکھنا، ماتھے پر تریپونڈ (Tripund) یا تلک لگانا، اور روایتی گھونگھٹ نکالنا کسی کی مذہبی شناخت کا حصہ ہے اور اسے بالکل نارمل سمجھا جاتا ہے... تو پھر داڑھی اور نقاب کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھا جا رہا ہے؟ مزید برآں، سکھ برادری بھی داڑھی اور پگڑی کو اپنی مذہبی شناخت کا لازمی حصہ مانتی ہے، تو کیا وہ بھی اس دائرے میں آئیں گے؟
انتخابی وعدے سے زمین پر نفاذ تک
یاد رہے کہ 2022 کے گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی نے اپنے مینی فیسٹو میں اس 'اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل' کے قیام کا وعدہ کیا تھا، جسے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک قومی ضرورت قرار دیا تھا۔ اب یہ منصوبہ محض کاغذوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورکنگ اور مدارس کے اساتذہ کی نگرانی کی شکل میں زمین پر نافذ کیا جا رہا ہے۔