حج سال 2026 میں دنیا بھر سے تقریباً 18 لاکھ عازمینِ حج شریک ہوئے، جن میں 15 لاکھ سے زائد افراد بیرونِ ممالک سے سعودی عرب پہنچے۔ سعودی حکام کے مطابق اس سال حج کے انتظامات میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، اسمارٹ مانیٹرنگ سسٹمز اور شدید گرمی سے بچاؤ کے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے۔
سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے مختلف ممالک کے لیے مخصوص حج کوٹے مقرر کیے، جن کا تعین ہر ملک کی مسلم آبادی کے تناسب سے کیا گیا۔ اس سال سب سے زیادہ عازمینِ حج انڈو نیشیا سے آئے، جبکہ پاکستان اور انڈیا دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
اہم ممالک سے آنے والے حجاج کی تعداد
ملک متوقع تعداد
Indonesia 221,000
Pakistan 179,000
India 175,025
Bangladesh 127,000
Nigeria 95,000
Iran 87,000
Turkey 80,000
Egypt 90,000
Algeria 41,000
Malaysia 31,000
جنگ زدہ ملک ایران سے قابل لحاظ حجاج کی شرکت
جنگ زدہ ملک ایران سے87 ہزار افراد نے بیت اللہ کے مقدس سفر کی سعادت حاصل کی۔ واضح رہےکہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملے کئے گئے۔اس کے باوجود وہاں کے عوام نے مقدس سفر کا عزم کیا۔ اور حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر رہےہیں۔
حج 2026 کا عالمی منظر
اس سال حج ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی کشیدگی اور شدید گرمی دونوں بڑے چیلنجز تھے۔ اس کے باوجود لاکھوں مسلمان روحانی جوش و جذبے کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق مسجد الحرام اور میدانِ عرفات میں دنیا کے مختلف رنگ، نسل اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا اجتماع اسلامی اتحاد کی خوبصورت مثال بن گیا۔
سعودی عرب کے خصوصی انتظامات
سعودی حکومت نے اس سال:
ہجوم کنٹرول کے لیے AI نگرانی نظام استعمال کیا۔
منیٰ،عرفات اور مزدلفہ میں ٹھنڈے راستے اور واٹر اسٹیشن قائم کیے۔
غیر رجسٹرڈ حجاج کے خلاف سخت کارروائی کی۔
“نسک” ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے حج رجسٹریشن مزید آسان بنائی۔
کن ممالک سے سب سے زیادہ حجاج آئے؟