Monday, April 27, 2026 | 09 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • سماعت کی کمی: کیا ہےوجوہات، علامات اور علاج،جانیے ماہر کی رائے؟

سماعت کی کمی: کیا ہےوجوہات، علامات اور علاج،جانیے ماہر کی رائے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 27, 2026 IST

سماعت کی کمی: کیا ہےوجوہات، علامات اور علاج،جانیے ماہر کی رائے؟
منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج ایک اہم مسئلے یعنی سماعت کی کمی (Hearing Loss) اور جدید علاج کوکلیئر امپلانٹس (Cochlear Implants) پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس پروگرام میں ماہر ڈاکٹر Dr. Gyanaranjan Nayak نے سادہ انداز میں اس پیچیدہ مسئلے اور اس کے جدید حل پر روشنی ڈالی۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 

ڈاکٹر نایک کے مطابق سماعت کی کمی ایک عام مگر سنجیدہ مسئلہ ہے جو پیدائشی بھی ہو سکتا ہے اور وقت کے ساتھ مختلف وجوہات جیسے انفیکشن، شور، بڑھتی عمر یا حادثات کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض افراد میں یہ مسئلہ معمولی ہوتا ہے جبکہ کچھ میں مکمل بہرا پن بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
 
انہوں نے وضاحت کی کہ جب عام سماعتی آلات (Hearing Aids) مؤثر ثابت نہ ہوں، تو ایسے مریضوں کے لیے کوکلیئر امپلانٹ ایک جدید اور مؤثر حل ہے۔ یہ ایک چھوٹا الیکٹرانک آلہ ہوتا ہے جو سرجری کے ذریعے کان کے اندر نصب کیا جاتا ہے۔ یہ آلہ براہِ راست سماعتی اعصاب کو متحرک کرتا ہے، جس سے دماغ آواز کو سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ افراد بھی آواز محسوس کر سکتے ہیں جو مکمل طور پر سننے سے محروم ہوں۔
 
ڈاکٹر نایک نے بتایا کہ اس عمل میں ایک مخصوص سرجری کی جاتی ہے جو ماہر ڈاکٹر انجام دیتے ہیں۔ سرجری کے بعد مریض کو ریہیبلیٹیشن (Rehabilitation) یعنی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ نئی آوازوں کو پہچاننا سیکھ سکے۔ یہ عمل خاص طور پر بچوں میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے اگر کم عمری میں کیا جائے۔
 
انہوں نے جدید طبی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کوکلیئر امپلانٹس پہلے سے زیادہ محفوظ، مؤثر اور بہتر نتائج دینے والے بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے مریضوں کو بہتر ساؤنڈ کوالٹی اور زیادہ قدرتی سماعت کا تجربہ مل رہا ہے۔
 
پروگرام میں عوام کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ اگر کسی کو سماعت میں کمی محسوس ہو تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج سے بڑی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
 
آخر میں، ڈاکٹر نایک نے اس بات پر زور دیا کہ سماعت کی بحالی ممکن ہے، اور جدید ٹیکنالوجی نے لاکھوں افراد کی زندگی بدل دی ہے۔