• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مانسون اجلاس میں تعطل برقرار، پرینکا گاندھی کی مکیش دلال سے تکرار

مانسون اجلاس میں تعطل برقرار، پرینکا گاندھی کی مکیش دلال سے تکرار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 11, 2026 IST

مانسون اجلاس میں تعطل برقرار، پرینکا گاندھی کی مکیش دلال سے تکرار
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آخری ہفتے میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ منگل کو پارلیمنٹ احاطے میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان ایک بار پھر بحث دیکھنے کو ملی۔ اسی دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ مکیش دلال کے درمیان بھی بحث دیکھنے کو ملی۔
 
میڈیا رپورٹ کے مطابق پرینکا گاندھی پارلیمنٹ کی عمارت کی جانب جا رہی تھیں کہ مکیش دلال نے ”راہل گاندھی، شرم کرو“ کے نعرے لگائے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ایک پوسٹر بھی تھا، جس پر راہل گاندھی سے جھارکھنڈ میں طلبہ پر ہونے والی پولیس کارروائی کے معاملے پر جواب دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس موقع پر پرینکا گاندھی نے مکیش دلال سے کہا کہ راہل گاندھی جھارکھنڈ کے طلبہ سے ملاقات کر چکے ہیں۔ اس کے بعد وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئیں۔
 
بعد میں مکیش دلال نے سوال اٹھایا کہ راہل گاندھی جھارکھنڈ کب گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی اور اروند کیجریوال جھارکھنڈ جانے سے گریز کیوں کر رہے ہیں۔ دلال کے مطابق پرینکا گاندھی نے انہیں بتایا کہ راہل گاندھی اس معاملے پر کام کر رہے ہیں، اسی لیے انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایسا ہے تو وہ جھارکھنڈ کیوں نہیں گئے۔
 
پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان اپوزیشن دہلی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج اور رام مندر کے عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں جیسے معاملات پر وزیر داخلہ امیت شاہ سے جواب طلب کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان معاملات پر حکومت کو ایوان میں وضاحت دینی چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ امیت شاہ ان مسائل پر جواب دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپوزیشن کو بھی بحث سننے اور اس میں حصہ لینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ پیر، 10 اگست کو حکومت کی جانب سے بھی یہی موقف دہرایا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود پارلیمنٹ میں تعطل ختم نہیں ہو سکا۔
 
جھارکھنڈ کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا مرکز
 
اب بی جے پی اور این ڈی اے کے ارکان جھارکھنڈ میں طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج کے معاملے کو لے کر اپوزیشن پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ حکمراں جماعت کے ارکان پوچھ رہے ہیں کہ جو اپوزیشن دہلی میں طلبہ کے معاملے پر حکومت سے جواب مانگ رہی ہے، وہ جھارکھنڈ میں طلبہ کے خلاف کارروائی پر خاموش کیوں ہے۔ اس معاملے پر پرینکا گاندھی نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نے حکومتی ارکان پارلیمنٹ کو احتجاج کرتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے کم از کم حکومت کو احتجاج کرنے پر مجبور تو کیا ہے، اب حکمراں جماعت کے ارکان کو ایوان کے اندر آکر ان سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ یوں مانسون اجلاس کا آخری ہفتہ بھی سیاسی رسہ کشی کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تعطل ختم ہوگا یا اجلاس کے باقی دن بھی ہنگامے کی نذر ہو جائیں گے؟