مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی امن مفاہمت میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر کے مطابق، پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھانے میں تعاون فراہم کیا۔ شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔
اس مفاہمتی یادداشت پر اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بھی دستخط کیے تھے، جس کے بعد اسے خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے کی جانب ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایک اعلیٰ سطحی سفارتی تقریب منعقد ہونے والی ہے، جہاں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے اہم مذاکرات کار شریک ہوں گے۔ اس اجلاس میں امن معاہدے کے مختلف پہلوؤں، عمل درآمد کے طریقہ کار اور مستقبل کی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیابی سے نافذ ہوتا ہے تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی، عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہیں اور عالمی طاقتیں سفارت کاری کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔