حیدرآباد کے علاقے تالاب کٹہ میں ہفتے کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں کپڑے دھوتے ہوئے 30 سالہ خاتون طاہرہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئی۔طاہرہ کا تعلق مہاراشٹر کے ضلع عثمان آباد سے تھا اور وہ ان دنوں تالاب کٹہ کے بھوانی نگر میں اپنی بہن کے گھر قیام پذیر تھی۔ پولیس کے مطابق وہ گھر میں کپڑے دھو رہی تھیں کہ اچانک بجلی کے کرنٹ کی زد میں آ گئی۔
اہل خانہ نے انہیں فوری طور پر قریبی نجی اسپتال پہنچایا، جہاں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ حالت تشویشناک ہونے کے باعث ڈاکٹروں نے انہیں مزید علاج کے لیے عثمانیہ جنرل اسپتال منتقل کر دیا۔ اسپتال میں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ زخموں کی وجہ سے دم توڑ دی ۔
پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عثمانیہ جنرل اسپتال منتقل کر دیا ہے اور واقعے کا مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کرنٹ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی اور گھر کی بجلی کی وائرنگ یا کسی برقی آلے میں خرابی تو اس حادثے کا سبب نہیں بنی۔
کرنٹ لگنے کے حالیہ افسوسناک واقعات
حیدرآباد یا تلنگانہ میں اس طرح کا افسوسناک حادثہ پیش آیا ۔ 28 جولائی 2026 کو حیدرآباد کے میڈی پلی علاقے میں 40 سالہ ڈی سواتھی امَرشن واٹر ہیٹر استعمال کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق وہ گھر میں پانی گرم کر رہی تھی کہ اچانک برقی جھٹکا لگا۔ اہل خانہ نے انہیں اسپتال منتقل کیا، ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
اسی طرح 12 مئی 2026 کو تلنگانہ کے سنگاریڈی ضلع کے امین پور علاقے میں 45 سالہ یلّما کپڑے سکھاتے وقت بجلی کی تار کے رابطے میں آ گئی، جس کے باعث انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی۔