Monday, April 27, 2026 | 09 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • میں جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا:اروند کیجریوال

میں جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا:اروند کیجریوال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 27, 2026 IST

 میں جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا:اروند کیجریوال
دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے شراب پالیسی کیس میں دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔سوموار کو جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کیجریوال نے کہا کہ انہیں جسٹس سورن کانتا شرما سے انصاف ملنے کی امید ختم ہو چکی ہے۔  اس لیے انھوں نے مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اپنی ضمیرکی آواز  پر کیا ہے۔
 
 کیجریوال نے کیا کہا؟
 
کیجریوال نے اپنے پیغام میں کہا:سب جانتے ہیں کہ مجھے ایک جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ آخر کار 27 فروری کو عدالت نے مجھے بری کر دیا اور CBI کی تفتیش پر ہی سوال اٹھائے۔ لیکن سچ کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ CBI نے فوراً اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا اور کیس جسٹس سورن کانتا شرما کے سامنے آ گیا۔ تب میرے ذہن میں ایک بڑا سوال اٹھا ، کیا مجھے ان کے سامنے انصاف ملے گا؟
 
 جسٹس شرما کے بچے مرکز کی حکومت کے وکیل ہیں : کیجریوال
 
کیجریوال نے مزید کہا:میرے ذہن میں یہ سوال اٹھنے کے دو بڑے وجوہات ہیں۔پہلی وجہ: RSS کی نظریاتی حکومت نے مجھے جیل بھیجا۔ جسٹس شرما خود تسلیم کر چکی ہیں کہ وہ اسی نظریے سے وابستہ تنظیم 'ایڈووکیٹس کونسل' کے پروگراموں میں کئی بار شریک ہوئی ہیں۔ میں اور عام آدمی پارٹی (AAP) اس نظریے کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایسے میں کیا ان کے سامنے مجھے انصاف مل سکتا ہے؟  
 
دوسری وجہ: جسٹس شرما کے دونوں بچے مرکز کی حکومت کے وکیل ہیں۔جسٹس شرما کے بچوں کو 5,000 سے زائد کیسز ملے ۔
 
کیجریوال نے الزام لگایاکہ  سی بی آئی کا کیس سالیسٹر جنرل توشار مہتا لڑ رہے ہیں۔ وہ جسٹس شرما کے بچوں کو کیس دیتے ہیں۔ بھارت کی حکومت کے پینل میں تقریباً 700 وکیل ہیں، مگر جسٹس شرما کے بچوں کو سب سے زیادہ کیس ملتے ہیں۔  
 
2023 سے 2025 کے درمیان ان کے بیٹے کو تقریباً 5,904 کیسز ملے، جس سے انہیں کروڑوں روپے کی فیس ملی۔ ان کی کمائی اور مستقبل توشار مہتا پر منحصر ہے۔ ایسے میں کیا وہ اس وکیل کے خلاف فیصلہ کر پائیں گی؟
 
 پہلے بھی کئی جج خود کو کیس سے الگ کر چکے ہیں:
 
کیجریوال نے جسٹس شرما کو ایک خط بھی لکھا ہے، جس میں انہوں نے کئی مثالیں دی ہیں جب ججوں نے ضروری ہونے پر خود کو کیس سے الگ کر لیا۔انہوں نے بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سجوی پال اور اتول شری دھرن نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے اسی عدالت میں وکالت کرنے کی وجہ سے اپنا تبادلہ مانگا تھا۔ انہوں نے ریٹائرڈ جسٹس سی وی شیورامن نایر کا بھی ذکر کیا جنہوں نے بھی تبادلہ مانگا تھا۔
 
 معاملہ کیا ہے؟
 
دہلی کی نچلی عدالت نے 27 فروری 2026 کو شراب پالیسی کیس میں اروند کیجریوال سمیت 22 دیگر ملزمان کو بری کر دیا تھا اور CBI افسر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔سی بی آئی نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس کی سماعت جسٹس سورن کانتا شرما نے کی۔ انہوں نے نچلی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی۔  
 
اس کے بعد کیجریوال نے جسٹس شرما سے خود کو کیس سے الگ کرنے کی درخواست دائر کی، جسے جسٹس شرما نے مسترد کر دیا۔اب کیجریوال نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس عدالت میں پیش نہیں ہوں گے اور انصاف کے لیے ستیاغرہ کی راہ اختیار کریں گے۔