آئی پی ایل 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ ٹیم مسلسل دوسری بار پلے آف میں جگہ بنانے میں ناکام رہی اور 13 میچوں میں صرف 4 فتوحات کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر دسویں نمبر پر رہی۔ اس طرح لکھنؤ سپر جائنٹس پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بن گئی۔ اس مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور کئی اہم کھلاڑیوں کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
عبدالصمد کی کارکردگی
ڈومیسٹک کرکٹ کے جارح مزاج بلے باز عبدالصمد اس سیزن میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے 7 میچوں میں صرف 79 رنز بنائے، جبکہ انہیں 4.20 کروڑ روپے میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا۔
ایڈن مارکرم کی ناکامی
جنوبی افریقہ کے کپتان ایڈن مارکرم بھی اس سیزن میں کوئی بڑا اثر چھوڑنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے 12 میچوں میں صرف 231 رنز بنائے اور ایک بھی نصف سنچری اسکور نہیں کر سکے۔
آیوش بدونی کی کارکردگی
نوجوان کھلاڑی آیوش بدونی بھی مسلسل ناکامی کا شکار رہے اور 172 رنز تک محدود رہے۔ انہیں 4 کروڑ روپے میں برقرار رکھا گیا تھا لیکن ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔
میانک یادو کی صورتحال
تیز گیند باز میانک یادو بھی اس سیزن میں متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے۔ ٹیم نے ان پر 11 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی لیکن وہ مکمل طور پر اثر ڈالنے میں ناکام رہے۔
رشبھ پنت پر دباؤ
وکٹ کیپر بلے باز اور کپتان رشبھ پنت نے اس سیزن میں 286 رنز بنائے۔ بطور کپتان یہ ان کا مسلسل دوسرا ناکام سیزن قرار دیا جا رہا ہے اور ٹیم کی خراب کارکردگی کے باعث ان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
مجموعی صورتحال
لکھنؤ سپر جائنٹس کی مسلسل ناکامی کے بعد فرنچائز میں بڑے فیصلوں کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ سیزن سے قبل ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ فی الحال یہ سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے مکمل ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔