بھارت میں E20 ایتھنول ملاوٹ پالیسی پر بحث مسلسل تیز ہو رہی ہے۔ اس دوران برازیل کی مثال بار بار دی جا رہی ہے، کیونکہ اسے دنیا میں ایتھنول کے کامیاب ترین ماڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیل کی کامیابی ایک دن یا چند برسوں میں حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور مرحلہ وار نفاذ شامل تھا۔
برازیل نے 1970 کی دہائی میں تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے ایتھنول کے استعمال کا آغاز کیا۔ اس وقت ملک اپنی تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا تھا۔ لیکن 1980 کی دہائی میں جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئی اور چینی کی قیمتیں بڑھ گئیں تو شوگر ملوں کے لیے ایتھنول کے بجائے چینی تیار کرنا زیادہ منافع بخش ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں ایتھنول کی قلت پیدا ہوئی اور صرف ایتھنول پر چلنے والی گاڑیوں کے مالکان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان تجربات کے بعد برازیل نے جلد بازی کے بجائے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔ 2003 میں ملک نے فلیکس فیول گاڑیاں متعارف کروائیں، جو پٹرول، ایتھنول یا دونوں ایندھن پر چل سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے ایندھن کی فراہمی، پٹرول پمپوں کے انفراسٹرکچر، آٹو موبائل صنعت اور صارفین کے انتخاب پر یکساں توجہ دی۔ پھر مرحلہ وار ایتھنول کی ملاوٹ میں اضافہ کیا گیا۔ آج برازیل میں فروخت ہونے والی تقریباً 90 فیصد نئی گاڑیاں فلیکس فیول ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔
بھارت میں بھی ایتھنول ملاوٹ کو تیزی سے فروغ دیا جا رہا ہے، تاہم اس پالیسی پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 2023 سے پہلے تیار ہونے والی بہت سی گاڑیاں E20 ایندھن کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں تھیں، جبکہ انفراسٹرکچر اور صارفین کی تیاری بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ ان کے مطابق برازیل نے دہائیوں میں جو نظام قائم کیا، بھارت اسے چند برسوں میں نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ ایتھنول ملاوٹ سے خام تیل کی درآمدات کم ہوں گی، کسانوں کی آمدنی بڑھے گی، فارن ایکسچینج کی بچت ہوگی اور آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اس تمام بحث کے درمیان ایک بنیادی سوال اب بھی برقرار ہے: کیا بھارت برازیل کے تجربات سے سبق لیتے ہوئے مرحلہ وار اور مضبوط انفراسٹرکچر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، یا پھر تبدیلی کی رفتار زمینی تیاریوں سے زیادہ تیز ہے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ E20 پالیسی کے طویل مدتی فوائد عام صارفین، کسانوں اور معیشت تک کس حد تک پہنچ پائیں گے، اور اس کے نفاذ میں شفافیت اور تیاری کس حد تک یقینی بنائی جا رہی ہے۔