Wednesday, August 05, 2026 | 19 صفر 1448
  • News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • بمراہ کے بعد بھارت کی نئی حکمت عملی، تین نوجوان فاسٹ بولرز پر بی سی سی آئی کی نظر

بمراہ کے بعد بھارت کی نئی حکمت عملی، تین نوجوان فاسٹ بولرز پر بی سی سی آئی کی نظر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 04, 2026 IST

بمراہ کے بعد بھارت کی نئی حکمت عملی، تین نوجوان فاسٹ بولرز پر بی سی سی آئی کی نظر
بھارتی کرکٹ ٹیم کے لیے تیز گیند بازی کے شعبے میں نئی حکمت عملی کی جا رہی ہے۔ جسپریت بمراہ کی بار بار ہونے والی انجریز اور محدود دستیابی کے باعث بی سی سی آئی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک مضبوط فاسٹ بولنگ گروپ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بھارت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جاتا ہے تو بی سی سی آئی تین نئے تیز گیند بازوں کو زیادہ مواقع دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

بمراہ پر انحصار کم کرنے کا منصوبہ

جسپریت بمراہ گزشتہ کئی سالوں سے بھارتی بولنگ اٹیک کے سب سے اہم کھلاڑی رہے ہیں، لیکن مسلسل انجریز اور ورک لوڈ مینجمنٹ کے مسائل نے ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ بی سی سی آئی سمجھتا ہے کہ بمراہ اب بھی ٹیم کے لیے انتہائی اہم ہیں، لیکن ان کی دستیابی ہمیشہ یقینی نہیں رہ سکتی۔ خاص طور پر آنے والے ون ڈے ورلڈ کپ کو دیکھتے ہوئے ٹیم مستقبل کے لیے متبادل تیار کرنا چاہتی ہے۔

سراج کے بعد نئے فاسٹ بولرز کی تلاش

موجودہ فاسٹ بولنگ اٹیک میں محمد سراج ایک قابل اعتماد گیند باز ہیں، جو مشکل حالات میں بھی اپنی کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ بمراہ اور سراج کے علاوہ ٹیم مینجمنٹ کو ایسے گیند باز کی کمی محسوس ہو رہی ہے جو عالمی سطح پر مسلسل بہترین ثابت ہو سکے۔ محمد شامی کی صورتحال بھی زیر غور ہے۔ گھٹنے کی طویل انجری سے واپسی کے بعد شامی نے بنگال کے لیے رنجی ٹرافی میں شاندار کارکردگی دکھائی اور تقریباً اکیلے ہی بولنگ اٹیک کو سنبھالا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ نے حالیہ منصوبوں میں شامل نہیں کیا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹیم کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہو سکتے۔

تین نوجوان فاسٹ بولرز پر نظر

بی سی سی آئی اب ایسے گیند بازوں کی تلاش میں ہے جو رفتار کے ساتھ ساتھ پچ سے اچھال حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ رپورٹ کے مطابق تشار دیش پانڈے، گرجپنیت سنگھ اور ودربھ کے نچیکیت بھوٹے کو مستقبل کے لیے ٹریک کیا جا رہا ہے۔ یہ تینوں گیند باز اچھی رفتار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر بھارت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جاتا ہے تو انہیں جلد قومی ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے اور نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے بھی ان کے نام پر غورکیا جا سکتا ہے۔ ایک رپورٹ میں سابق عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا کہ اگر نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران بھارت کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں نہیں پہنچ سکتا، تو ٹیم کو چاہیے کہ وہ نئے نوجوان تیز گیند بازوں کو موقع دے۔

آسٹریلیا دورے میں بمراہ پر زیادہ انحصار نظر آیا

2024-25 کے آسٹریلیا دورے کے دوران بھارت کا بمراہ پر انحصار واضح نظر آیا، جہاں ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں 1-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب بمراہ کامیابیاں دلانے میں ناکام رہے تو بھارتی ٹیم کی مشکلات بڑھ گئی۔ حالانکہ انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز 2-2 سے برابر رہی، لیکن اس میں انگلینڈ کی خراب شاٹ سلیکشن اور بھارتی بیٹنگ کا بھی کردار تھا۔ انگلینڈ میں بمراہ کی غیر موجودگی نے دوسرے فاسٹ بولرز کے انتخاب پر بھی سوال اٹھائے۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز ارشدیپ سنگھ، جو گیند کو دونوں طرف سوئنگ کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کو موقع نہیں دیا گیا۔ مانچسٹر ٹیسٹ میں انشول کمبوج کو شامل کیا گیا، لیکن وہ دوبارہ ٹیم کا مستقل حصہ نہیں بن سکے۔ اس کے بعد سری لنکا سیریز کے لیے عاقب نبی کو موقع دیا گیا۔ بھارت اب مستقبل کے لیے ایسا فاسٹ بولنگ گروپ تیار کرنا چاہتا ہے جو بمراہ کی غیر موجودگی میں بھی ٹیم کو مضبوط رکھ سکے۔