وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن (Christopher Luxon) سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے تجارت، دفاع، سمندری سلامتی، ثقافت، کھیل اور قدرتی آفات سے نمٹنے سمیت کئی اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے اور انڈیا–نیوزی لینڈ اسٹریٹجک پارٹنرشپ، روڈ میپ ٹو 2030 پیش کیا، جس کا مقصد آئندہ چار سالوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
تجارت بڑھانے کا ہدف
بھارت اور نیوزی لینڈ نے آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ سال 2030 تک دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 7 ارب نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً 35 ہزار کروڑ بھارتی روپے) تک پہنچایا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے تاجروں کو بہتر مواقع فراہم کرنا، نئی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنانا اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس سال بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پہلا آزاد تجارتی معاہدہ طے پایا اور اب دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کی کوشش ہوگی کہ 2030 تک باہمی تجارت کو دوگنا کیا جائے۔
اسٹریٹجک پارٹنرشپ روڈ میپ
دونوں رہنماؤں نے انڈیا–نیوزی لینڈ اسٹریٹجک پارٹنرشپ، روڈ میپ ٹو 2030 بھی پیش کیا۔ اس منصوبے کے ذریعے آئندہ چند سالوں میں دفاع، سلامتی، سمندری تحفظ، انسداد دہشت گردی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
سمندری معاملات کے لیے اہم معاہدہ
دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا، جس کے تحت دونوں ممالک ہر سال سمندری سلامتی پر باقاعدہ مذاکرات کریں گے۔ اس معاہدہ کے تحت دونوں ممالک سمندری علاقوں کی نگرانی کریں گے، ضروری معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے اور اپنی بحری نظام کو مزید بہتر بنائیں گے، تاکہ سمندر کی حفاظت مزید مضبوط ہو سکے۔
دفاعی تعاون میں اضافہ
دونوں ممالک نے بھارتی بحریہ اور نیوزی لینڈ کی دفاعی فورس کے درمیان باہمی لاجسٹک سپورٹ سے متعلق معاہدے پر بھی دستخط کیے۔اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی بحری افواج ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کے بحری اڈوں، ایندھن، مرمت اور دیگر سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدام
بھارت اور نیوزی لینڈ نے دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔اس کے تحت دونوں ممالک باقاعدہ رابطے میں رہیں گے، اہم معلومات کا تبادلہ کریں گے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کریں گے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے میں تعاون
بھارت کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور نیوزی لینڈ کی نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے درمیان بھی ایک معاہدہ کو لے کردستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک قدرتی آفات سے نمٹنے، امدادی کاروائیوں، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی کوچنگ اور اپنے کامیاب تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی آفت کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
انڈو پیسیفک میں تعاون
نیوزی لینڈ نے انڈو پیسیفک اوشین انیشیٹو (IPOI) کے تحت سمندری سلامتی کے شعبے میں بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے غیر قانونی ماہی گیری، سمندری جرائم اور دیگر مسائل سے مل کر نمٹنے، ضروری معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے اور مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا-
ثقافتی شعبے کے لیے بھی معاہدہ
بھارت اور نیوزی لینڈ کی ثقافت سے متعلق وزارتوں نے باہمی ثقافتی تعاون کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔یہ معاہدہ، وکاس بھی، ورثہ بھی، کے تصور پر مبنی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اپنی ثقافت، تاریخی ورثے اور فنون کے شعبے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دیں گے۔
کھیلوں میں مشترکہ منصوبہ
دونوں ممالک نے کھیلوں کے شعبے کے لیے ایکشن پلان کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت کھیلوں کی کوچنگ ، اسپورٹس سائنس، اسپورٹس میڈیسن اور اعلیٰ کارکردگی کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ رگبی،(Rugby)روئنگ،(Rowing) اھلیٹکس، گالف اور باؤلز جیسے کھیلوں میں بھی مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔
دورے کی اہمیت
وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ اور دونوں ممالک کے تعلقات، دونوں ممالک کے لیے ترقی کا باعث بن سکتا ہے۔ تجارت، دفاع، سمندری سلامتی، انسداد دہشت گردی، ثقافت، کھیل اور قدرتی آفات سے نمٹنے جیسے اہم شعبوں میں ہونے والے یہ معاہدے مستقبل میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔