Wednesday, July 15, 2026 | 28 محرم 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • جہازوں پر حملے کے بعد بھارت کا بڑا قدم، ایرانی سفارتکار کو طلب کر لیا

جہازوں پر حملے کے بعد بھارت کا بڑا قدم، ایرانی سفارتکار کو طلب کر لیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 14, 2026 IST

جہازوں پر حملے کے بعد بھارت کا بڑا قدم، ایرانی سفارتکار کو طلب کر لیا
ہندوستان نے آبنائے ہرمز میں کمرشل جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی بحری قوانین اور آزاد تجارتی نقل و حرکت کے خلاف قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ (MEA) نے منگل کے روز نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن کو طلب کر کے ان حملوں پر باضابطہ اور سخت احتجاج درج کرایا۔
 
وزارتِ خارجہ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے پرچم بردار دو تجارتی جہاز ایم ٹی البحیہ اور ایم ٹی ممباسا میزائل حملوں کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد متاثر ہوئے۔ ان حملوں میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
 
حکام کے مطابق دونوں جہازوں پر عملے کے مجموعی طور پر 46 ارکان سوار تھے، جن میں 30 ہندوستانی شہری شامل تھے۔ وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ ایم ٹی البحیہ پر موجود 12 ہندوستانیوں میں سے ایک کی موت ہوگئی جبکہ ایک زخمی ہوا۔ اسی طرح ایم ٹی ممباسا پر موجود 18 ہندوستانی عملے کے ارکان میں سے 9 زخمی ہوئے، جن میں دو کی حالت نازک ہے۔
 
بھارت نے اپنے بیان میں کہا کہ تجارتی جہازوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی بحری راستوں پر جہاز رانی کی آزادی اور محفوظ نقل و حرکت ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
 
وزارتِ خارجہ نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر تشدد کا خاتمہ اور مذاکرات و سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
 
وزارت نے یہ بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں قائم ہندوستانی سفارت خانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ ہندوستانی شہریوں کو ہر ممکن قونصلر اور طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
 
دوسری جانب نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن کو طلب کر کے حکومتِ ہند نے ان حملوں پر شدید اعتراض ریکارڈ کرایا اور واضح کیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔
 
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کشیدگی بڑھنے سے نہ صرف عالمی تجارت بلکہ توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔