Wednesday, August 26, 2026 | 11 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران نے امریکی پابندیوں کی دھمکی مسترد کردی، جوابی کاروائی کا انتباہ

ایران نے امریکی پابندیوں کی دھمکی مسترد کردی، جوابی کاروائی کا انتباہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 25, 2026 IST

ایران نے امریکی پابندیوں کی دھمکی مسترد کردی، جوابی کاروائی کا انتباہ
ایران نے امریکہ کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیوں کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر مزید دباؤ بڑھایا تو ایران اس کا جواب دے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران پر جتنی بھی پابندیاں لگائے، وہ ایران کو دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کرنے سے مکمل طور پر نہیں روک سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم تجارتی شراکت دار امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
 
امریکہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا
 
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کی معیشت پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانچی Scott Bessent نے کہا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے، انہیں بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس سے ان کے لیے ڈالر میں بین الاقوامی لین دین کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیر  نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا اور پابندیاں کب سے نافذ ہوں گی۔ ان کے مطابق متعلقہ ممالک کو نئی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے کچھ وقت دیا جائے گا۔
 
60 افراد، اداروں اور جہازوں پر پابندیاں
 
امریکی محکمہ خزانہ نے الگ سے ایران سے منسلک 60 افراد، اداروں اور جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فہرست میں چین کے ان مالیاتی اداروں کو شامل نہیں کیا گیا جن پر ایران کی تیل کی تجارت میں مدد کرنے کا شبہ ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ایرانی تیل خریدنے والے اہم ممالک میں بھی شامل ہے۔
 
ایران کا امریکہ کو سخت جواب
 
امریکی پابندیوں کے اعلان پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے تجارتی شراکت دار پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ایران کے وزیرِ معیشت و خزانہ علی مدنی زادہ نے بھی کہا کہ ایران نئی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے دیگر مخالفین پر ایران کے خلاف "معاشی دہشت گردانہ حملہ" کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس بھی اپنے معاشی ذرائع موجود ہیں اور وہ کسی بھی دباؤ کا جواب دینا جانتا ہے۔
 
چین اور روس کے حوالے سے ایران کا دعویٰ
 
 ایران کے وزیرِ معیشت و خزانہ علی مدنی زادہ نے دعویٰ کیا کہ چین اور روس نے امریکہ کے نئے اقدامات کو قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق دوسرے ممالک بھی ممکنہ طور پر واشنگٹن کے مطالبات کی مزاحمت کریں گے۔ ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ امریکہ کی یک طرفہ پابندیاں اسے چین، روس اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ تجارت جاری رکھنے سے نہیں روک سکتیں۔
 
خلیج میں تیل کی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ
 
ایران نے امریکی پابندیوں کے اعلان سے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے مزید دباؤ ڈالا تو ایران اس کا جواب دے سکتا ہے۔ ایرانی ردعمل میں صرف اقتصادی اقدامات ہی نہیں بلکہ فوجی کاروائی کا امکان بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خلیج کے راستے ہونے والی تیل کی برآمدات مزید متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف واقعی نئی پابندیاں نافذ کرتا ہے تو اس سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس کے اثرات ایران کی معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی تیل کی تجارت اور خلیجی خطے کی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے جوابی کاروائی اور تیل کی برآمدات متاثر کرنے سے متعلق باتیں فی الحال دھمکیوں اور بیانات کی حد تک ہیں۔ ان کے عملی طور پر کب اور کس شکل میں سامنے آنے والے اقدامات پر ہوگا۔