مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو اس بار لڑائی کا انداز پہلے سے مختلف ہوگا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے لبنان کےمیڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویوں میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ رضائی نے کہا کہ ایران نیتن یاہو کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر تنازع دوبارہ شروع ہوا تو ایران ایک نئے مرحلے کے لیے تیار ہے۔
بیرن ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش سے انکار
ایرانی عہدیدار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے بیرن ٹرمپ کو قتل کرنے کی مبینہ ایرانی سازش کے دعوے کو بھی مسترد کیا۔ رضائی کے مطابق، نیتن یاہو نے ٹرمپ کو خوفزدہ کرنے کے لیے ایران کی جانب سے ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق غلط معلومات پھیلائیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے ایسی کوئی سازش نہیں کی۔
لبنان کا محاذ بھی اہم
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں لبنان بھی ایک اہم محاذ بن گیا ہے۔ خبر کے مطابق، جون میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے دوران ایران چاہتا تھا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی روک دی جائے۔ اسرائیل نے لبنان میں اپنی کاروائیاں جاری رکھیں، جس پر ایران نے اعتراض کیا ہے۔ لبنان نے بھی الزام لگایا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک خاتون ہلاک ہوئی۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صرف حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
ایران دوبارہ جنگ کے لیے تیار
محسن رضائی نے کہا کہ ایران لبنان کی صورتحال پر سنجیدگی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق، اگر تنازع دوبارہ شروع ہوا تو ایران اس بار پہلے سے مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں موجود ان علاقوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا جنہیں ایران اسرائیل کے قبضے میں سمجھتا ہے۔ اس طرح اس خبر کا بنیادی معاملہ یہ ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کاروائیوں اور ایران اسرائیل کشیدگی کے درمیان ایران نے دوبارہ جنگ کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے، جبکہ ایران نے بیرن ٹرمپ کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کے دعوے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
ایران کی امریکہ کو بھی نئی دھمکی
لیکن 28 اگست کی تازہ رپورٹ میں محسن رضائی نے امریکہ کو بھی خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کی طرف سے ایران پر بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ایران امریکی مفادات اور اقتصادی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے جوابی اقدامات کر سکتا ہے۔