امریکی صدر ،ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی آخری تاریخ کو 6 اپریل تک بڑھا دیا ہے ۔اور اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے توانائی کے پلانٹس پر حملے مؤخر کریں گے۔صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ بات چیت بہت اچھے انداز میں جاری ہے ۔اور ایران نے بظاہر مذاکرات میں نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ آئل ٹینکروں کو ہرمز کے راستے سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کر رکھا ہے۔ایران آبنائے ہرمز سے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو روک رہا ہے۔
لیکن وہ اہم آبی گزرگاہ سے اپنے دوست ممالک کو گذرنے دے رہا ہے۔اور ایران کے دوست ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے ۔ خلیج تعاون کونسل کے چھ خلیجی عرب ممالک کے بلاک کے جاسم محمد البدوی نے کہا کہ ایران آبنائے کے محفوظ راستے سے گزرنے کا معاوضہ لے رہا ہے ۔جنگ کے نتیجے میں ایران میں تقریباً دو ہزار ، لبنان میں ایک ہزار ایک سو اور اسرائیل اور دیگر علاقوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
ساتھ ہی بتاتے چلیں کہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر گذشتہ شب ایک بار پھر میزائل حملہ کیا گیا۔جو صرف ایک ہفتے میں دوسرا واقعہ ہے، تاہم کسی کے زخمی ہونے یا ری ایکٹر کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی ۔پلانٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور تابکاری کی سطح مستحکم ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ، رَفائل میریانو گراسی نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔اور ایٹمی خطرات سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایٹمی پلانٹس کے قریب کسی بھی حملے سے شدید تابکاری کے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔
وہیں روسی حکومت نے بھی ایرانی پلانٹ کے قریب کیے گئے حملے کی شدید مذمت کی ۔اور ایٹمی خطرے کے ممکنہ تباہ کن اثرات سے خبردار کیا۔