ایران میں 'اسمبلی آف ایکسپرٹس' کے رکن اور سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے ڈپٹی چیف آیت اللہ محسن قمی نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ آیت اللہ قمی نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے ایسی چالیں اس لیے چلی جاتی ہیں تاکہ وہ ہمارا ردعمل جان سکیں اور افواہیں پھیلا سکیں۔
دشمن کی چالوں کا جواب:
انہوں نے کہا، "کچھ لوگ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ یہ دشمن کی جانب سے استعمال کیا جانے والا ایک حربہ ہے، جو یہ کہنا چاہتا ہے کہ 'وہ حاضر کیوں نہیں ہیں؟ وہ کوئی آڈیو یا ویڈیو پیغام کیوں نہیں بھیجتے؟ جن لوگوں نے ان سے ملاقات کی ہے، وہ آگے آکر بات کیوں نہیں کرتے؟وہ ان سوالات کے ذریعے ہمیں ردعمل دینے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔
حملے سے معجزاتی بچاؤ کی تصدیق:
آیت اللہ قمی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس عمارت میں موجود تھے جس پر بمباری ہوئی تھی، لیکن وہ معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا:وہ اسی عمارت میں تھے جس پر بمباری ہوئی تھی، جہاں دیگر لوگ شہید ہو گئے۔ دھماکے سے چند منٹ قبل، اللہ کی مرضی سے، وہ صحن میں چلے گئے تھے۔ خدا چاہتا تھا کہ وہ محفوظ رہیں۔
صحت اور حکومتی امور:
قمی نے مزید کہا کہ زخموں کے باوجود، ایرانی حکام اب سپریم لیڈر کی زندگی کو محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو یقین دلاتے ہوئے کہا، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ چوٹوں کے باوجود، خدا نے انہیں اہل تشیع کے لیے ایک انمول اثاثے کے طور پر محفوظ رکھا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ:موجودہ وقت میں وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور فعال طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔وہ اپنی براہ راست نگرانی میں مذاکرات اور زمینی کارروائیوں سے متعلق امور کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے مذاکراتی ٹیم کو مختلف حالات میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں خصوصی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔