Sunday, May 17, 2026 | 29 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایرانی منصوبہ بندی اور ٹرمپ کی وارننگ،جانیے آبنائے ہرمز کے لیے کیا ہے ایران کا ماسٹر پلان؟

ایرانی منصوبہ بندی اور ٹرمپ کی وارننگ،جانیے آبنائے ہرمز کے لیے کیا ہے ایران کا ماسٹر پلان؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 17, 2026 IST

ایرانی منصوبہ بندی اور ٹرمپ کی وارننگ،جانیے آبنائے  ہرمز کے لیے  کیا ہے ایران کا ماسٹر پلان؟
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی کے مذاکرات کے درمیان  ایران نے واضح کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر صرف 'اسلامک ریولوشنری گارڈ کور' (IRGC) کا کنٹرول رہے گا اور وہاں بحری ٹریفک کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک نیا 'پروفیشنل میکانزم' تیار کر لیا گیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ہفتہ کو اس نئے بحری منصوبے کا اعلان کیا، جس نے واشنگٹن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں ہلچل مچا دی ہے۔
 
ایران کا نیا بحری میکانزم کیا ہے؟
 
ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس'پر جاری ایک بیان میں کہا کہ  ایران آبنائے ہرمز میں ایک طے شدہ راستے کے ذریعے بحری ٹریفک کو منظم کرے گا اور اس میکانزم کے تحت دی جانے والی خصوصی خدمات کے عوض فیس بھی لی جائے گی۔یہ نیا راستہ صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کے لیے کھلا رہے گا۔ یہ راستہ امریکہ کے نام نہاد 'فریڈم پروجیکٹ'سے وابستہ آپریٹرز کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم بین الاقوامی تجارت کے تحفظ اور اپنی قومی خودمختاری کے دائرے میں اٹھایا گیا ہے۔
 
 صدر ٹرمپ کا دعویٰ اور ایران کو بڑا معاشی نقصان:
 
اس اعلان سے ٹھیک ایک دن پہلے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ کے دورے کے بعد 'ایئر فورس ون' طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کو سخت وارننگ دی تھی،ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور چین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس کسی بھی صورت میں جوہری (Nuclear) ہتھیار نہیں ہو سکتے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔
 
صدر ٹرمپ نے اصرار کیا کہ خطے میں امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے گزشتہ ڈھائی ہفتوں میں ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
 
ایرانی وزیرِ خارجہ کا نئی دہلی میں سخت پلٹ وار:
 
دوسری طرف، ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں برکس (BRICS) وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں امریکہ پر شدید تنقید کی،عباس عراقچی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا) میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 40 دنوں تک فوجی مقاصد میں ناکامی کے بعد اب امریکہ نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جس پر تہران شدید شکوک و شبہات کا شکار ہے۔
 
ایرانی وزیرِ خارجہ نے واشنگٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ہمیں امریکیوں پر ذرا بھی بھروسہ نہیں ہے اور یہی سفارت کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمارے پاس ان پر بھروسہ نہ کرنے کی ہر وجہ موجود ہے۔
 
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی خام تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران کے اس نئے ماسٹر پلان کے بعد عالمی منڈیوں اور سیکیورٹی کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔