غزہ ایک کھلی جیل کی مانند ہے جس کا اسرائیل نے چاروں طرف سے محاصرہ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی نسل کشی کی وجہ سے غزہ مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے اور وہاں بنیادی ضروریات زندگی کی شدید قلت ہے۔ اسی تناظر میں 'گلوبل صمود فلوٹیلا' کے تحت دنیا بھر سے سماجی کارکنوں، ماحولیاتی رضاکاروں، ڈاکٹروں، پروفیسروں، سیاست دانوں اور دیگر افراد کا ایک قافلہ اسرائیلی ناکہ بندی توڑ کر غزہ جانے کی کوشش کر رہا تھا، تاکہ وہاں ضروری انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔
لیکن اسرائیلی فوج نے جنوبی یونانی جزیرے کریٹ کے قریب گلوبل صمود فلوٹیلا کی 20 سے زائد کشتیوں کو روکا اور ان پر سوار 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
بین الاقوامی پانیوں میں کاروائی:
گلوبل صمود فلوٹیلا پر سوار کارکنوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے رات بھر ان کے جہازوں پر حملہ کیا، انجن توڑ دیے اور ان میں سے کچھ کو حراست میں لے لیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ غزہ اور اسرائیل سے سینکڑوں میل (کلو میٹر) دور یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں سفر کر رہے تھے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں فلوٹیلا کے اسرائیلی سمندری حدود میں پہنچنے سے پہلے ہی کاروائی کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ اس میں شامل کشتیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔
فلوٹیلا کا مشن اور حالیہ صورتحال:
گلوبل صمود فلوٹیلا اس ماہ کے شروع میں اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہوا تھا۔ منتظمین کے مطابق، دنیا بھر سے 70 سے زائد کشتیاں اور 1,000 افراد اس میں حصہ لیں گے، اور جیسے جیسے یہ قافلہ بحیرہ روم کے پار مشرق کی طرف بڑھے گا، مزید جہاز اس میں شامل ہوتے جائیں گے۔
منتظمین نے اسرائیل کی اس مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "ایک خطرناک اور بے مثال اشتعال انگیزی" قرار دیا ہے۔ ایک نیوز ریلیز میں انہوں نے اسے "غزہ سے 600 میل سے زیادہ دور، دنیا کے سامنے، بحیرہ روم کے وسط میں عام شہریوں کا اغوا" قرار دیا۔
جاری ایک علیحدہ بیان میں منتظمین نے کہا کہ 53 میں سے 31 جہاز محفوظ پانیوں میں پہنچ گئے ہیں اور وہ "غزہ کا غیر قانونی محاصرہ توڑنے" کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے شروع میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ فلوٹیلا میں شامل 20 سے زائد کشتیوں سے تقریباً 175 کارکنوں کو اسرائیل منتقل کر رہا ہے۔