• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • جے پی ایس سی امتحان میں بڑا کھیل؟ 24 امیدواروں سے کروڑوں کی ڈیل

جے پی ایس سی امتحان میں بڑا کھیل؟ 24 امیدواروں سے کروڑوں کی ڈیل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 14, 2026 IST

جے پی ایس سی امتحان میں بڑا کھیل؟ 24 امیدواروں سے کروڑوں کی ڈیل
جھارکھنڈ کے 14ویں کمبائنڈ سول سروسز امتحان (JPSC) میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے دوران سی آئی ڈی کی پوچھ تاچھ میں ایک اور بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ گرفتار ملزم بدھیشور بھگت کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے تفتیش کے دوران امیدواروں کو جے پی ایس سی کے ابتدائی امتحان یعنی PT میں کامیاب کرانے کے لیے تیار کی گئی مبینہ مالی اسکیم کے بارے میں اہم معلومات دی ہیں۔
 
ذرائع کے مطابق، مبینہ طور پر 24 امیدواروں کو PT امتحان پاس کرانے کے لیے ایک بڑے مالی نیٹ ورک کے ذریعے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس پورے منصوبے میں تقریباً 100 کروڑ روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان دعوؤں کی سی آئی ڈی کی جانب سے باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
 
11 امیدواروں سے 1.10 کروڑ روپے وصول کرنے کا دعویٰ
 
تحقیقات سے واقف ذرائع کے مطابق، 24 امیدواروں میں سے 11 سے مبینہ طور پر تقریباً 1.10 کروڑ روپے وصول کیے گئے تھے۔ بدھیشور بھگت کو گرفتار ملزم ابھے تیواری کا قریبی ساتھی بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھگت پہلے این ایچ ایم دفتر میں کنٹریکٹ کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ الزام ہے کہ اس نے مختلف ایجنٹوں کے ذریعے امیدواروں سے رابطہ کیا اور ان کے سرٹیفکیٹس ابھے تیواری تک پہنچائے۔
 
امیدواروں سے لاکھوں روپے مانگنے کا الزام
 
تحقیقات میں سامنے آئے مبینہ انکشاف کے مطابق، ایس ٹی امیدواروں سے 70 لاکھ روپے جبکہ جنرل اور او بی سی امیدواروں سے 90 لاکھ روپے تک مانگے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ مبینہ طور پر ادائیگی کے لیے بھی ایک مرحلہ وار طریقہ طے کیا گیا تھا۔ PT امتحان سے پہلے 10 لاکھ روپے، مین امتحان سے قبل مجموعی رقم کا تقریباً 50 فیصد اور باقی رقم انٹرویو سے پہلے ادا کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اگر یہ الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ جے پی ایس سی بھرتی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے نیٹ ورک کی سنگینی کو ظاہر کر سکتے ہیں۔
 
اب تک 22 گرفتاریاں
 
سی آئی ڈی کی کارروائی مسلسل جاری ہے اور امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں اب تک 22 افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاع ہے۔ تفتیشی ایجنسی مبینہ پیپر لیک، امیدواروں سے رقم وصول کرنے اور امتحانی عمل میں بدعنوانی سے جڑے پورے نیٹ ورک کی چھان بین کر رہی ہے۔
تاہم، سی آئی ڈی نے بدھیشور بھگت سے متعلق ان تمام دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ اس لیے الزامات کی حتمی حقیقت تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔
 
21ویں دن بھی طلبہ کا احتجاج جاری
 
دوسری جانب جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج بھی جاری ہے۔ جمعہ، 14 اگست کو یہ احتجاج 21ویں دن میں داخل ہوگیا۔طلبہ رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں احتجاج کر رہے ہیں اور امتحانات کی منسوخی، سی بی آئی انکوائری اور بھرتی کے پورے عمل میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی، احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری جانب حکومت اور تحقیقاتی ایجنسی کے اقدامات پر اب امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کی نظریں مرکوز ہیں۔